رجب بٹ پر تشدد، سندھ حکومت کا ردِ عمل آگیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
وزیر داخلہ سندھ ضیا لنجار نے سٹی کورٹ کراچی میں معروف یوٹیوبر رجب بٹ پر وکلاء کی جانب سے حملہ کیے جانے کے واقعے پر فوری ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام بالکل ناقابل قبول ہے اور اس کی سختی سے مذمت کی جاتی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ عدالت میں موجود کورٹ پولیس کی ذمہ داری تھی کہ وہ ملزمان کو محفوظ طریقے سے عدالت میں لے جائے، تاہم اس کے باوجود رجب بٹ پر تشدد ہونا باعث تشویش ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ اس واقعے کی تحقیقات کی جائیں گی اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔رجب بٹ عبوری ضمانت کے حصول کے لیے سٹی کورٹ کراچی میں پیش ہوئے تھے۔ پیشی کے دوران اچانک وکلاء کے ایک گروہ نے ان پر حملہ کردیا۔ تشدد کے باعث رجب بٹ زمین پر گر گئے اور انہیں فوری طور پر طبی امداد کی ضرورت پیش آئی۔ واقعے کے فوراً بعد پولیس اور عدالتی عملے نے موقع پر پہنچ کر صورتحال کو قابو میں کیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے کی وجوہات تاحال سامنے نہیں آسکیں۔ نہ ہی وکلاء تنظیموں کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ مؤقف جاری کیا گیا ہے۔ واقعے کے بعد سٹی کورٹ کے احاطے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ سائلین اور دیگر افراد نے بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔ادھر عدالت نے رجب بٹ کی عبوری ضمانت میں 13 جنوری تک توسیع کردی۔ عدالتی کارروائی مختصر رہی، جس کے بعد زخمی یوٹیوبر کو عدالتی احاطے سے باہر منتقل کردیا گیا۔ قریبی ذرائع کے مطابق رجب بٹ کی حالت خطرے سے باہر بتائی جارہی ہے تاہم انہیں مزید طبی معائنے کے لیے اسپتال لے جایا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز