القسام بریگیڈ نے اپنے ترجمان کی شہادت اور نئے ترجمان کی تقرری کا اعلان کردیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
اپنے ایک جاری بیان میں القسام بریگیڈ کا کہنا تھا کہ شہادتوں کے باوجود مزاحمت کا راستہ جاری رہے گا۔ ان واقعات سے تنظیم کے عزم اور ڈھانچے میں کوئی خلل پیدا نہیں ہو گا۔ اسلام ٹائمز۔ فلسطین کی مقاومتی تحریک "حماس" کے عسکری ونگ "القسام" بریگیڈ نے باضابطہ طور پر اپنے ترجمان "ابو عبیدہ" کی شہادت کا اعلان کر دیا۔ اس حوالے سے شهید عزالدین القسام بریگیڈ نے باضابطہ ایک بیان جاری کیا۔ جس میں انہوں نے بتایا کہ اسرائیل کے ساتھ حالیہ جنگ میں ان کے بہت سے برجستہ کمانڈر شہید ہوئے۔ اس دوران انہوں نے اپنے ترجمان ابو عبیده کی شہادت کی خبر بھی دی اور اعلان کیا کہ القسام کے نئے ترجمان مقرر کر دئیے گئے ہیں۔ اس موقع پر القسام بریگیڈ نے قرآن کی آیت مِنَ الْمُؤْمِنِینَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَیْهِ کا حوالہ دیا۔ اپنے اعلیٰ کمانڈروں کی شہادت پر تعزیت و مبارکباد پیش کی اور انہیں بہترین کمانڈرز و سرخیل مجاہدین کے عنوان سے یاد کیا۔ اس بیان کے مطابق، القسام بریگیڈ کے چیف جنرل اسٹاف "محمد السنوار" عرف "ابو ابراہیم"، رفح بریگیڈ کے کمانڈر "محمد شبانہ" عرف "ابو انس" اور لبنان، شام و دیگر ممالک میں ذمے داریاں انجام دینے کے بعد غزہ منتقل ہونے والے تجربہ کار کمانڈر "حکم العیسی" عرف "ابو عمر" ان شہداء میں شامل ہیں۔ القسام بریگیڈ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ شہادتوں کے باوجود مزاحمت کا راستہ جاری رہے گا۔ ان واقعات سے تنظیم کے عزم اور ڈھانچے میں کوئی خلل پیدا نہیں ہو گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: القسام بریگیڈ بریگیڈ نے کی شہادت
پڑھیں:
200 سال قدیم "از غیب شہید مسجد" کو مودی حکومت نے رات کی تاریکی میں مسمار کردیا
انہدامی کارروائی محض 22 منٹ میں 5 بلڈوزرز کے ذریعہ انجام دی گئی، یہ مسجد تقریباً 42 فیٹ اونچی تھی، جسکو مسمار کئے جانے کے بعد ملبہ راتوں رات ٹرکوں میں بھر کر وہاں سے ہٹادیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر وارانسی میں گزشتہ شب مودی حکومت نے 200 سال قدیم "از غیب شہید مسجد" کو مسمار کر دیا اور ساتھ ہی وہاں موجود مزار اور قبرستان کے کچھ حصہ کو بھی منہدم کر دیا گیا۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ مسجد کو منہدم کرنے کی کارروائی محض 22 منٹ میں 5 بلڈوزرز کے ذریعہ انجام دی گئی۔ یہ مسجد تقریباً 42 فیٹ اونچی تھی، جس کو مسمار کئے جانے کے بعد ملبہ راتوں رات ٹرکوں میں بھر کر وہاں سے ہٹا دیا گیا۔ یعنی بدھ کی صبح جب لوگ اس جگہ سے گزرے تو مسجد اور مزار کا نام و نشان مٹ چکا تھا۔
ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ کل دیر شب تقریباً 12 بجے انتظامیہ کے اعلیٰ افسران 1000 سے زائد جوانوں کے ساتھ "از غیب شہید مسجد" کے پاس پہنچے اور علاقہ کا معائنہ کیا۔ ڈی سی پی کاشی گورو بنسوال اور اے ڈی سی پی ویبھو بانگر نے مسجد کے چاروں طرف بیریکیڈنگ کروائی اور لوگوں کی آمد و رفت پر روک لگا دی گئی۔ حتیٰ کہ میڈیا اہلکاروں کو بھی اس جگہ پر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ رات کی تاریکی میں خاموشی کے ساتھ یہ کام ہوا اور جب تک مسجد منہدم ہونے کی خبر لوگوں تک پہنچی، ملبہ بھی وہاں سے ہٹایا جا چکا تھا۔
انتظامیہ نے مسجد منہدم کرنے کے لئے رات کی تاریکی کا انتخاب کرنے کی کوئی آفیشیل وجہ نہیں بتائی۔ پولیس اہلکاروں نے یہ ضرور کہا کہ ٹریفک سے بچنے کے لئے رات میں کارروائی کی گئی۔ راج گھاٹ واقع کاشی ریلوے اسٹیشن کے احاطہ میں موجود اس مسجد کو منہدم کرنے سے پہلے اے سی پی شیوہری مینا نے افسروں کے ساتھ پہنچ کر جائزہ لیا تھا۔ بعد ازاں سخت سیکورٹی میں مزار اور اس کے قریب بنی مسجد کو مسمار کر دیا گیا۔ موصولہ اطلاع کے مطابق بھدؤ چنگی واقع قلعہ کوہنا علاقہ میں "از غیب شہید کی مسجد اور قبرستان کئی سالوں سے تنازعہ کا شکار رہا۔
مسلمانوں کا دعویٰ ہے کہ مسجد 200 سال قدیم تھی۔ مسجد کے متولی شمیم استاد تھے، جن کا 2 ماہ قبل انتقال ہو چکا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ ریلوے کی پرانی زمین ہے، جس پر کچھ لوگوں نے ناجائز قبضہ کر پہلے مزار بنائی، اور بعد میں مسجد و قبرستان کی تعمیر کی گئی۔ 2024ء میں کاشی ماڈل ریلوے اسٹیشن کا منصوبہ سامنے آیا، جس کے بعد زمین کی پیمائش کرائی گئی اور مسجد کی تعمیر ناجائز قبضہ والی زمین پر ہونے کا پتہ چلا۔ از غیب شہید مسجد کی انہدامی کارروائی سے متعلق رپورٹ "این ڈی ٹی وی" پر بھی شائع ہوئی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ اس جگہ ایک ہنومان مندر بھی تھا، اسے بھی ہٹا دیا گیا ہے۔