ابو عبیدہ رواں برس اسرائیلی حملے میں شہید ہو چکے، حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ کی تصدیق
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے تصدیق کی ہے کہ اس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ کے ترجمان ابوعبیدہ شہید ہوگئے ہیں۔
مزید پڑھیں: اسرائیلی فوج کی غزہ سٹی میں کارروائی، حماس کے اہم کمانڈر کو شہید کرنے کا دعویٰ
تنظیم کے مطابق اس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ اور غزہ میں تنظیم کے سربراہ محمد سنوار اس سال اسرائیل کے ساتھ جاری لڑائی کے دوران شہید ہو گئے۔
ترجمان کے مطابق اسرائیلی فوج نے اگست میں غزہ میں بمباری کے دوران ابوعبیدہ کو زخمی کر دیا تھا، اور وہ دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے۔ حماس نے ان شہادتوں کو اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیلی فوج نے مئی میں دعویٰ کیا تھا کہ اس نے محمد سنوار کو شہید کر دیا ہے، جو سابق حماس رہنما یحییٰ سنوار کے چھوٹے بھائی تھے۔ اور پھر 3 ماہ بعد اسرائیل نے ابوعبیدہ کی شہادت کی بھی اطلاع دی تھی۔
ابوعبیدہ حماس کے ایک نمایاں ترجمان سمجھے جاتے تھے اور میدانِ جنگ کی صورتحال، جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور قیدیوں کے تبادلے سے متعلق بیانات جاری کرتے رہے، خاص طور پر مختصر جنگ بندی کے دوران جسے بعد میں اسرائیل نے ختم کردیا۔
مزید پڑھیں: غزہ: اسرائیلی حملوں میں بچوں سمیت 24 فلسطینی شہید، حماس کی ثالثوں سے مداخلت کی اپیل
محمد سنوار اور ابوعبیدہ ان رہنماؤں میں شامل ہیں جن کی گزشتہ دو برسوں میں اسرائیل نے شہادت کی تصدیق کی ہے۔
اس فہرست میں حماس کے کئی اعلیٰ عسکری اور سیاسی قائدین شامل ہیں، جن میں سابق سیاسی سربراہ یحییٰ سنوار، عسکری کمانڈر محمد الضیف اور سیاسی رہنما اسماعیل ہنیہ شامل ہیں، جو تہران میں شہید ہوئے تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews ابو عبیدہ اسرائیلی فوج القسام بریگیڈ حماس شہید عسکری ونگ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیلی فوج القسام بریگیڈ شہید وی نیوز اسرائیلی فوج حماس کے
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔