پاکستان میں کرپٹو کرنسی کو کوئی قانونی حیثیت حاصل نہیں، پشاور ہائیکورٹ کا تحریری فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
پشاور ہائیکورٹ نے کرپٹو کرنسی اور ڈیجیٹل فاریکس کی غیر قانونی ٹریڈنگ کے خلاف دائر درخواست کو خارج کرتے ہوئے فیصلے میں لکھا ہے کہ پاکستان میں کرپٹو کرنسی کو کوئی قانونی حیثیت حاصل نہیں ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پشاورہائیکورٹ کے جسٹس کامران حیات میاں خیل نے کرپٹو کرنسی اور ڈیجیٹل فاریکس کی غیر قانونی ٹریڈنگ کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کرنے کے بعد تحریری فیصلہ جاری کردیا۔
فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ حکومت نے ورچوئل ایسٹس آرڈیننس 2025 متعارف کرایا ہے، آرڈیننس کے تحت لائسینسنگ اور ریگولیشن کے لئے لیگل فریم ورک تیار کیا گیا ہے، جس کے ذریعے معاملات کو ریگولیٹ کیا گیا اور اس کے بعد یہ درخواست اب غیر موثر ہوگئی ہےْ
فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ درخواست غیر موثر ہونے پر خارج کیا جاتا ہے۔ جسٹس کامران حیات نے فیصلے میں لکھا کہ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان میں کرپٹو کرنسی کو کوئی قانونی حیثیت حاصل نہیں، اسٹیٹ بینک کے مراسلوں اور سرکلرز کے ذریعے مالی اداروں اور لوگوں کو صرف آگاہ کیا گیا ہے کہ اس قسم کی کرنسی کاروبار میں احتیاط کریں۔
پشاور ہائیکورٹ نے فیصلے میں لکھا کہ اسٹیٹ بینک کے مراسلوں میں یہ ذکر نہیں ہے کہ کرپٹو کرنسی کا کاروبار جرم ہے، یا اس کے لئے کوئی سزا ہے، کرپٹو اور ڈیجیٹل فاریکس ٹریڈنگ کی ریگولیشن کا معاملہ پالیسی اور قانون سازی کا ہے اور یہ عدالتی اختیار میں نہیں آتا۔
ہائیکورٹ نے تحریری فیصلے میں لکھا کہ قانون سازی اور پابندی کا اختیار انتظامیہ اور مقننہ کے پاس ہے۔ فیصلے میں لکھا گیا کہ درخواست گزار کے مطابق منی کرپٹو ٹریڈنگ سے منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کے خدشات ہے، حکومت کی جانب سے ورچول ایسٹس آرڈیننس 2025 کے تحت ریگولیٹری فریم ورک متعارف کرا گیا ہے۔
تحریری فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ کرپٹو کرنسی اور ڈیجیٹل فارکس کے لئے پالسی 2025 آئی ہے، اس سٹیج پر یہ درخواستیں غیر موثر ہوگئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فیصلے میں لکھا گیا کرپٹو کرنسی اور ڈیجیٹل گیا ہے کہ
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔