اسلام آباد(ممتاز نیوز)پاکستان کے توانائی شعبے میں بڑی اور اہم پیش رفت، چین کی معروف انرجی ٹیکنالوجی گروپ نے پاکستان میں باضابطہ طور پر اپنے آپریشنز کا آغاز کرتے ہوئے بھاری سرمایہ کاری کا اعلان کر دیا۔ سرمایہ کاری کو ماہرین نے توانائی کے شعبے میں اسٹریٹجک بریک تھرو قرار دے دیا جو ملک کے توانائی مستقبل کو مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔چینی توانائی و ٹیکنالوجی گروپ کی جانب سے پاکستان میں جدید لیتھیم بیٹری ٹیکنالوجی، سولر انرجی اسٹوریج سسٹمز اور پاور بیک اپ حل متعارف کروائے گئے۔ ان جدید انرجی اسٹوریج ماڈیول بیٹریز کی درآمد کا آغاز بھی کر دیا گیا جن کے ذریعے شمسی اور ہوا سے پیدا ہونے والی بجلی کو مؤثر انداز میں محفوظ کیا جا سکے گا۔ماہرین کے مطابق انرجی اسٹوریج ٹیکنالوجی کے فروغ سے پاکستان میں متبادل توانائی کے استعمال کو فروغ ملے گا اور بجلی کے نظام میں استحکام آئے گا۔ منصوبے کے تحت پاکستان میں جدید پیداواری یونٹس قائم کیے جائیں گے، جہاں ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے ساتھ ساتھ مقامی افراد کو تربیت فراہم کی جائے گی اور ہزاروں افراد کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔اس موقع پر ممبر قومی اسمبلی اور پارلیمانی سیکرٹری برائے کامرس ذولفقار علی بھٹی نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں چینی سرمایہ کاری پاکستان کی معیشت کے لیے خوش آئند ہے، جو نہ صرف صنعتی ترقی بلکہ ماحول دوست اور پائیدار توانائی کے حصول میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ توانائی کے شعبے میں یہ سرمایہ کاری پاکستان کو ماحول دوست، مستحکم اور پائیدار توانائی نظام کی جانب لے جانے میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: پاکستان میں سرمایہ کاری توانائی کے

پڑھیں:

امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر

ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے  ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔

کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان