ایران: خلائی میدان میں ایک اور تاریخی قدم، مقامی ساختہ 3 سیٹلائٹ خلا میں بھیج دیے
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایران نے خلائی میدان میں ایک اور سنگ میل عبور کرتے ہوئے 3 سیٹلائٹس خلا میں بھیج دیے۔
عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق ایران نے اتوار کو روسی سویوز راکٹ کے ذریعے مقامی طور پر تیار کردہ اپنے 3 نئے سیٹلائٹس کامیابی سے خلا میں روانہ کیے۔
رپورٹ میں سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق پایا، ظفر-2 اور کوثر 1.
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ مشن شہری اور تحقیقی مقاصد کے لیے انجام دیا گیا ہے۔
باخبر ذرائع کے مطابق یہ سیٹلائٹس ایران کے نجی شعبے اور تعلیمی اداروں نے ڈیزائن کیے ہیں، جن کا مقصد ماحولیاتی نگرانی اور قدرتی وسائل کے بہتر انتظام میں مدد فراہم کرنا ہے۔
تقریباً 150 کلوگرام وزن کے ساتھ پایا اب تک ایران کا سب سے جدید اور بھاری امیجنگ سیٹلائٹ ہے۔
اس میں مصنوعی ذہانت کی جدید صلاحیتیں شامل کی گئی ہیں، جو تصاویر کے معیار کو بہتر بناتی ہیں۔ پایا کو آبی وسائل کی نگرانی، نقشہ سازی اور ماحولیاتی تجزیے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
دوسری جانب ظفر2 یونیورسٹی کے محققین نے تیار کیا ہے جبکہ کوثر 1.5 ایک ایرانی نجی کمپنی کی جانب سے بنایا گیا ایک جدید ہائی ریزولوشن سیٹلائٹ ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق حساس آلات کی محفوظ ترسیل کے لیے سویوز راکٹ کا انتخاب کیا گیا، جو اپنی قابلِ اعتماد کارکردگی کے لیے جانا جاتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایران گزشتہ 2 برسوں میں 10 سیٹلائٹس خلا میں بھیج چکا ہے، جن میں جولائی میں اسی روسی لانچ سائٹ سے کی گئی ایک لانچ بھی شامل ہے۔
حکام کے مطابق یہ سیٹلائٹس زرعی منصوبہ بندی، سیلاب اور زلزلوں کے دوران امدادی کارروائیوں، اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی نگرانی جیسے شہری مقاصد کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق خلا میں کے لیے
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔