ایرانی صدر: اسرائیل اور امریکا دوبارہ حملہ کریں تو فیصلہ کن جواب دیں گے
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل اور امریکا دوبارہ ایران پر حملہ کریں تو ایران زیادہ فیصلہ کن جواب دے گا۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکا، اسرائیل اور یورپ کی جانب سے جاری کشیدگی مکمل جنگ کے مترادف ہے۔
صدر پزشکیان نے کہا کہ یہ موجودہ تنازعہ عراق کی جنگ سے بھی کہیں زیادہ پیچیدہ اور مشکل ہے، اور اس پر غور کرنے سے صورتحال کی سنگینی واضح ہو جاتی ہے۔
واضح رہے کہ رواں سال جون میں اسرائیل نے ایران پر جارحیت شروع کی، جو 12 دن تک جاری رہی۔ اس دوران ایران میں فوجی افسران اور جوہری سائنسدانوں سمیت 400 سے زائد افراد شہید ہوئے۔ تاہم ایران کی مؤثر جوابی کارروائی کے باعث اسرائیل کو سیز فائر پر مجبور ہونا پڑا۔
اعداد و شمار کے مطابق صرف جنگی اخراجات کا جائزہ لیا جائے تو اسرائیل کا یومیہ خرچ تقریباً 205 ارب روپے تھا، جس سے مجموعی نقصان 8.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔