ایرانی صدر: اسرائیل اور امریکا دوبارہ حملہ کریں تو فیصلہ کن جواب دیں گے
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل اور امریکا دوبارہ ایران پر حملہ کریں تو ایران زیادہ فیصلہ کن جواب دے گا۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکا، اسرائیل اور یورپ کی جانب سے جاری کشیدگی مکمل جنگ کے مترادف ہے۔
صدر پزشکیان نے کہا کہ یہ موجودہ تنازعہ عراق کی جنگ سے بھی کہیں زیادہ پیچیدہ اور مشکل ہے، اور اس پر غور کرنے سے صورتحال کی سنگینی واضح ہو جاتی ہے۔
واضح رہے کہ رواں سال جون میں اسرائیل نے ایران پر جارحیت شروع کی، جو 12 دن تک جاری رہی۔ اس دوران ایران میں فوجی افسران اور جوہری سائنسدانوں سمیت 400 سے زائد افراد شہید ہوئے۔ تاہم ایران کی مؤثر جوابی کارروائی کے باعث اسرائیل کو سیز فائر پر مجبور ہونا پڑا۔
اعداد و شمار کے مطابق صرف جنگی اخراجات کا جائزہ لیا جائے تو اسرائیل کا یومیہ خرچ تقریباً 205 ارب روپے تھا، جس سے مجموعی نقصان 8.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔