پابندی کے باوجود جونیئر اسکواش چیمپئن شپ کھیلنے والے 2 پاکستانی فائنل میں پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
قومی اسکواش فیڈریشن کی جانب سے پابندی کے باوجود اسکاٹ لینڈ اوپن جونیئر اسکواش چیمپین شپ میں شرکت کرنے والے دو پاکستانی کھلاڑی فائنل میں پہنچ گئے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق اسکاٹ لینڈ کے شہر ایڈن برگ میں جاری چیمپیئن شپ کے بوائز انڈر 15 ایونٹ میں ٹاپ سیڈ محمد سہیل عدنان نے سیمی فائنل میں سیڈ 3 قطر کے عمر فراغ کو آسانی کے ساتھ 0-3 سے شکست دے کر ٹائٹل پر نظریں مرکوز کر دیں۔
محمد سہیل عدنان نے اپنے حریف کے خلاف پہلے گیم میں 3-11 سے کامیابی پانے کے بعد دوسرے گیم میں 4-11 فتح حاصل کی اور پھرتیسرا گیم بھی 4-11سے جیتا۔
منگل کو فائنل میں ان کا مقابلہ چین کے یوان زی لیو سے ہوگا۔
اس سے قبل مصطفی خان نے کوارٹر فائنل میں اپنے ہم وطن محمد بن عاطف کو شکست دی تھی، پاکستان کے دوسرے کھلاڑی محمد مصطفیٰ خان نے بوائز انڈر 13 ایونٹ کے سیمی فائنل میں ٹاپ سیڈ کھلاڑی ملائشیا کے احمد نظرل کو 0-3 سے ہرا کر اپ سیٹ کیا۔
مزید پڑھیںپاکستانی کھلاڑیوں کی پابندی کے باوجود اسکاٹش جونیئر اوپن اسکواش چیمپین شپ میں شرکت
انٹرنیشنل اسکواش رینکنگ جاری، تین پاکستانی ٹاپ 100 میں شامل
پاکستان کا اسکاٹش اوپن جونیئر اسکواش چیمپئن شپ سے بھی دستبرداری کا فیصلہ
مصطفی خان نے اپنے حریف کے خلاف پہلا گیم 4-11،دوسرا گیم 6-11 اور تیسرا گیم 5-11 سے جیتا، فائنل میں ان کا مقابلہ سیڈ ٹو ہانگ کانگ، چائنا کے نکولس من سو چو سے ہوگا۔
واضح رہے کہ پاکستان اسکواش فیڈریشن کی جانب سے دستبرداری کے باوجود ایک درجن سے زائد قومی کھلاڑی اسکاٹش جونیئر اوپن اسکواش چیمپین شپ میں شریک ہیں۔
عمروں میں شک کے سبب کھلاڑیوں کی کیٹگریز تبدیل کرنے پر پاکستان اسکواش فیڈریشن نے یو ایس جونیئر اوپن، اسکاٹش جونیئر اور برٹش جونیئر اوپن اسکواش چیمپین شپ سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔
قبل ازیں متعدد کھلاڑیوں نے فیڈریشن کے حکم کے برخلاف یو ایس جونیئر اوپن اسکواش چیمپین شپ میں بھی شرکت کی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسکواش چیمپین شپ میں کے باوجود فائنل میں
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔