اوباما نے ایران کو جوہری ہتھیار کیلیے اربوں ڈالرز دیئے؟ ٹرمپ کے بیان کی حقیقت کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر دعویٰ کیا ہے کہ سابق صدر باراک اوباما نے ایران کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے 220 ارب ڈالر فراہم کیے تھے۔
صدر ٹرمپ کے اس تشویشناک بیان نے دنیا بھر میں توجہ حاصل کرلی کیوں امریکا میں کسی کی بھی حکومت رہی ہو ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں پالیسی ہمیشہ سخت اور یکساں رہی ہے۔
دراصل عمر رسیدہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اس بیان میں کئی چیزوں کو ملادیا ہے جس کی وجہ ان کی کمزور پڑتی یاداشت بھی ہوسکتی ہے اور سیاسی حریف ہونا بھی ممکن ہے۔
اگر اوباما کے دور کا جائزہ لیا جائے، حقائق کو چھانا جائے اور اقدامات کو پرکھا جائے تو یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ ٹرمپ شاید کسی مغالطے کا شکار ہوگئے ہیں۔
اوباما کے دور میں 2015 میں ایران نیوکلیئر معاہدہ (JCPOA) طے پایا تھا جس کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر سخت پابندیاں قبول کیں۔
اور اس کے بدلے میں امریکا اور معاہدے میں شامل دیگر اتحادی یورپی ممالک نے ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں نرم کی تھیں۔
اس معاہدے کے تحت ایران کے منجمد اثاثے واپس کیے گئے، جن کی مالیت تقریباً 50 ارب ڈالر تھی اور درحقیقت یہ رقم بھی ایران کی اپنی تھی، امریکی ٹیکس دہندگان کی نہیں تھی۔
اسی طرح کسی بھی معتبر امریکی یا بین الاقوامی ادارے نے یہ تصدیق نہیں کی کہ اُس دور میں ایران کو 220 ارب ڈالر دیے گئے ہوں۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/115798254849714441
ٹرمپ کی پوسٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ایران چھ جوہری بم بنانے کے قریب تھا اور اس کے پاس ایسے میزائل تھے جو امریکا تک حملہ کر سکتے تھے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ دعوے بھی بے بنیاد ہیں کیوں کہ جون 2025 میں امریکی انٹیلیجنس سربراہ تلسی گبارڈ نے کانگریس کو بتایا تھا کہ ایران اس وقت جوہری ہتھیار تیار نہیں کر رہا تھا۔
علاوہ ازیں اسرائیل سمیت کسی بھی سخت مخالف ترین ملک نے بھی یہ تصدیق نہیں کی کہ ایران کے پاس ایسے میزائل موجود ہیں جو امریکی سرزمین تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
صدر ٹرمپ کی پوسٹ میں گریٹ ریپلیسمنٹ تھیوری کا حوالہ بھی شامل تھا جو کہ ایک نسل پرستانہ سازشی نظریہ سمجھا جاتا ہے اور جسے سفید فام قوم پرست گروہ فروغ دیتے ہیں۔
حالانکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نظریے کا بھی کوئی حقیقت پسندانہ ثبوت موجود نہیں اور اسے نفرت انگیز بیانیہ پھیلانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
صدر ٹرمپ کی یہ پوسٹ غلط معلومات، مبالغہ آرائی اور غیر مصدقہ دعوؤں پر مشتمل ہے جس کا مقصد سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانا اور خوف پھیلانا دکھائی دیتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔