امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر دعویٰ کیا ہے کہ سابق صدر باراک اوباما نے ایران کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے 220 ارب ڈالر فراہم کیے تھے۔

صدر ٹرمپ کے اس تشویشناک بیان نے دنیا بھر میں توجہ حاصل کرلی کیوں امریکا میں کسی کی بھی حکومت رہی ہو ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں پالیسی ہمیشہ سخت اور یکساں رہی ہے۔

دراصل عمر رسیدہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اس بیان میں کئی چیزوں کو ملادیا ہے جس کی وجہ ان کی کمزور پڑتی یاداشت بھی ہوسکتی ہے اور سیاسی حریف ہونا بھی ممکن ہے۔

اگر اوباما کے دور کا جائزہ لیا جائے، حقائق کو چھانا جائے اور اقدامات کو پرکھا جائے تو یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ ٹرمپ شاید کسی مغالطے کا شکار ہوگئے ہیں۔

اوباما کے دور میں 2015 میں ایران نیوکلیئر معاہدہ (JCPOA) طے پایا تھا جس کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر سخت پابندیاں قبول کیں۔

اور اس کے بدلے میں امریکا اور معاہدے میں شامل دیگر اتحادی یورپی ممالک نے ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں نرم کی تھیں۔

اس معاہدے کے تحت ایران کے منجمد اثاثے واپس کیے گئے، جن کی مالیت تقریباً 50 ارب ڈالر تھی اور درحقیقت یہ رقم بھی ایران کی اپنی تھی، امریکی ٹیکس دہندگان کی نہیں تھی۔

 اسی طرح کسی بھی معتبر امریکی یا بین الاقوامی ادارے نے یہ تصدیق نہیں کی کہ اُس دور میں ایران کو 220 ارب ڈالر دیے گئے ہوں۔

https://truthsocial.

com/@realDonaldTrump/115798254849714441

ٹرمپ کی پوسٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ایران چھ جوہری بم بنانے کے قریب تھا اور اس کے پاس ایسے میزائل تھے جو امریکا تک حملہ کر سکتے تھے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ دعوے بھی بے بنیاد ہیں کیوں کہ جون 2025 میں امریکی انٹیلیجنس سربراہ تلسی گبارڈ نے کانگریس کو بتایا تھا کہ ایران اس وقت جوہری ہتھیار تیار نہیں کر رہا تھا۔

علاوہ ازیں اسرائیل سمیت کسی بھی سخت مخالف ترین ملک نے بھی یہ تصدیق نہیں کی کہ ایران کے پاس ایسے میزائل موجود ہیں جو امریکی سرزمین تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

صدر ٹرمپ کی پوسٹ میں گریٹ ریپلیسمنٹ تھیوری کا حوالہ بھی شامل تھا جو کہ ایک نسل پرستانہ سازشی نظریہ سمجھا جاتا ہے اور جسے سفید فام قوم پرست گروہ فروغ دیتے ہیں۔

حالانکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نظریے کا بھی کوئی حقیقت پسندانہ ثبوت موجود نہیں اور اسے نفرت انگیز بیانیہ پھیلانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

صدر ٹرمپ کی یہ پوسٹ غلط معلومات، مبالغہ آرائی اور غیر مصدقہ دعوؤں پر مشتمل ہے جس کا مقصد سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانا اور خوف پھیلانا دکھائی دیتا ہے۔

 

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل