Jasarat News:
2026-07-24@04:06:12 GMT

قال اللہ تعالیٰ  و  قال رسول اللہ ﷺ

اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کیا تمہارے کفار کچھ اْن لوگوں سے بہتر ہیں؟ یا آسمانی کتابوں میں تمہارے لیے کوئی معافی لکھی ہوئی ہے؟۔ یا اِن لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ ہم ایک مضبوط جتھا ہیں، اپنا بچاؤ کر لیں گے؟۔ عنقریب یہ جتھا شکست کھا جائے گا اور یہ سب پیٹھ پھیر کر بھاگتے نظر آئیں گے۔ بلکہ اِن سے نمٹنے کے لیے اصل وعدے کا وقت تو قیامت ہے اور وہ بڑی آفت اور زیادہ تلخ ساعت ہے۔ یہ مجرم لوگ در حقیقت غلط فہمی میں میں مبتلا ہیں اور اِن کی عقل ماری گئی ہے۔ جس روز یہ منہ کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے اْس روز اِن سے کہا جائے گا کہ اب چکھو جہنم کی لپٹ کا مزا۔(سورۃ القمر:43تا48)

 

سیدنا انس بن مالکؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہؐ نے بڑے گناہوں کا تذکرہ فرمایا (یا آپ سے بڑے گناہوں کے بارے میں سوال کیا گیا) تو آپؐ نے فرمایا: ’’اللہ کے ساتھ شرک کرنا ، کسی کو ناحق قتل کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا‘‘۔ ( پھر ) آپؐ نے فرمایا: ’’کیا تمہیں کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ نہ بتاؤں؟‘‘ فرمایا: ’’جھوٹ بولنا (یا فرمایا: جھوٹی گواہی دینا)‘‘۔ (مسلم) ٭رسول اللہ کا یہ ارشاد ہے کہ:’’جو شخص اس حال میں صبح کرے کہ اسے مسلمانوں کی فلاح و بہبود کی کوئی فکر نہ ہو وہ مسلمانوں میں سے نہیں‘‘۔  (مستدرک حاکم)

قرآن و حدیث.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن