جنرل (ر)ساحرکو ٹیک اوور کے لیے اکسانے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
لاہور: رکن قومی اسمبلی شیرافضل مرورت نے مبینہ طور پرانکشاف کیا ہے کہ9مئی واقعہ ہوا تو فیض حمید نے جنرل (ر) ساحر شمشاد کو اکسایا کہ ٹیک اوور کرلیں،لیکن حاضرسروس جنرل ساحر شمشاد نے انکار کردیا اور رول آف لاءکے ساتھ کھڑے رہے۔
انہوں نے اے آروائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میری ناقص رائے کے مطابق مذاکرات کےلیے نہ کوئی کوشش ہوئی ہے اور نہ ہورہی ہے، نہ کوئی رابطے ہوئے ہیں اور نہ کوئی امکان ہے۔
مذاکرات حکومت کی ضرورت ہی نہیں ہے، نہ ہی پی ٹی آئی کا مذاکرات کےلیے ویژن واضح ہے۔
محمود اچکزئی نے کہا کہ مذاکرات کریں گے ، اگلے دن الٹ بیان دے دیا، علیمہ خانم کا بیان آیا، اس طرح وزیراعلیٰ کے پی کا بیان آیا کہ عمران خان کی کال پر ہم اسٹریٹ پاور کو لبیک کہتے ہیں۔
ماضی میں مذاکرات دونوں کی ضرورت تھی تو بیٹھے تھے، اب پی ٹی آئی کی ضرورت ہے، کیونکہ قیادت جیلوں میں ہے، پارٹی ہر گزرتے دن کے ساتھ نظام سے دور ہوچکی ہے، ایک سال میں 16پارلیمنٹرین گنوا دیے۔
سب بڑا کیس کورکمانڈرہائوس پر حملے کا ہے وہ ابھی تک کھلا نہیں ہے۔
پی ٹی آئی کہتی کہ 9مئی کے حوالے سے مراد سعید اور بشریٰ بی بی پر الزام لگایا گیا ہے لیکن جب فیض حمید کا ٹرائل ہوا، تو بیانیہ بنایا گیا کہ اس کو 9مئی کے ساتھ جوڑ رہے ہیں۔
شیر افضل مروت نے انکشاف کیا کہ 9مئی واقعہ ہوا توشاید آرمی چیف بیرون ملک دورے پر تھے، جنرل (ر)ساحر شمشاد نے مبینہ طورپرآرمی چیف عاصم منیر کو کہا کہ آپ کو آنے کی ضرورت نہیں ، میں معاملات کو سنبھال لوں گا۔
جنرل ر فیض حمید پر الزام یہ ہے کہ جنرل فیض نے جنرل ساحر شمشاد کو اکسایا کہ آپ ٹیک اوور کرلیں، لیکن انہوں نے انکار کردیا اور رول آف لاءکے ساتھ کھڑے رہے۔
اسی لیے یہ دفتر ختم کرنا ضروری سمجھا کہ آئندہ اگر کوئی ایسی صورتحال ہوتی ہے تو کسی کے پاس کوئی متبادل نہیں ہوگا۔ یہ ساری چیزیں کورکمانڈر ہائوس کے ٹرائل کےلیے رکھی ہوئی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کی ضرورت کے ساتھ
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔