یوکرینی حملے سے آگاہ کرنے پر امریکی صدر حیران ہوئے، کریملن
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
کریملن کے مطابق صدر پیوٹن نے یوکرینی حملے کے بعد روس کے مؤقف پر نظرثانی کرنے سے بھی آگاہ کیا۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی روسی صدر پیوٹن سے مثبت بات چیت ہوئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلد ٹرمپ کا روسی صدر پیوٹن سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔ اس حوالے سے روسی صدارتی محل کریملن کے مطابق صدر ٹرمپ اور ان کے مشیروں نے صدر پیوٹن کو یوکرین سے ہونے والی بات چیت کے بارے میں آگاہ کیا۔ کریملن کا کہنا ہے کہ صدر پیوٹن نے اپنی رہائش گاہ پر یوکرینی حملے کا بتایا تو ٹرمپ بہت حیران ہوئے، پیوٹن نے امن کے حصول کے لیے امریکا کے ساتھ کام جاری رکھنے کا بتایا۔ کریملن کے مطابق صدر پیوٹن نے یوکرینی حملے کے بعد روس کے مؤقف پر نظرثانی کرنے سے بھی آگاہ کیا۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی روسی صدر پیوٹن سے مثبت بات چیت ہوئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: یوکرینی حملے صدر پیوٹن پیوٹن نے
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔