ایران کے حملے کے بعد اسرائیلی وائزمن انسٹی ٹیوٹ کی پہلی منظرِ عام پر آنے والی تصویر
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
خبر رساں ایجنسی تسنیم کے بین الاقوامی شعبے کے مطابق حال ہی میں لی گئی یہ تصویر، جو ایران تک پہنچی ہے، اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ ایران کے حملے کے 196 دن بعد بھی یہ سائنسی و تحقیقی ادارہ فعال نہیں ہو سکا۔ اسلام ٹائمز۔ صیہونی جارحیت کے جواب میں ایران کے میزائل حملے کے تقریباً چھ ماہ بعد اسرائیل کے وائزمن انسٹی ٹیوٹ (Weizmann Institute) کی ایک نئی تصویر منظرِ عام پر آئی ہے، جو اس عمارت کے اب تک ناقابلِ استعمال ہونے کو ظاہر کرتی ہے۔ خبر رساں ایجنسی تسنیم کے بین الاقوامی شعبے کے مطابق حال ہی میں لی گئی یہ تصویر، جو ایران تک پہنچی ہے، اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ ایران کے حملے کے 196 دن بعد بھی یہ سائنسی و تحقیقی ادارہ فعال نہیں ہو سکا۔ تصویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ عمارت شدید نقصان کے باعث اب تک بند پڑی ہے، جو مقبوضہ علاقوں میں ایران کے اثر و رسوخ کی گہرائی کو نمایاں کرتی ہے۔
یاد رہے کہ وائزمن انسٹی ٹیوٹ کی سائنسی کونسل کے سربراہ اس سے قبل اعلان کر چکے ہیں کہ ایران کے حملے میں اس ادارے کی 50 تجربہ گاہیں اور بڑی مقدار میں جدید تحقیقی آلات مکمل طور پر تباہ ہو گئے تھے۔ ان کے مطابق ایران کی جانب سے داغے گئے دو میزائل براہِ راست وائزمن انسٹی ٹیوٹ سے ٹکرائے، جن کے نتیجے میں بھاری نقصان ہوا۔ یہ نقصان صرف مالی نوعیت کا نہیں تھا بلکہ کئی برسوں پر محیط سائنسی تحقیقات بھی تباہ ہو گئیں، جن کی تلافی اب ممکن نہیں رہی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: وائزمن انسٹی ٹیوٹ ایران کے حملے کرتی ہے حملے کے
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔