پی ٹی آئی مقدس مقامات کا احترام نہیں کرتی تو اسمبلی کا کیا کرے گی: ملک احمد خان
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا سے آئے لوگوں نے ذہنی پستی کا اظہار کیا، پی ٹی آئی مقدس مقامات کا احترام نہیں کرتی پنجاب اسمبلی کا کیا کرے گی کسی کو اجازت نہیں کہ میرے گھر کو آگ لگا کر کہے یہ میرا سیاسی حق ہے۔لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سپیکر ملک محمد احمد خان کا کہنا تھا کہ پنجاب اسمبلی میں کسی بھی کارروائی کی اجازت قوانین کے تابع ہے، ایوان کی کارروائی رولز کے مطابق چلائی جاتی ہے، اسمبلیاں حکومت اور اپوزیشن کے معاملات کو یکساں طور پر دیکھتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کی آمد پر خوشی ہوئی، مجھے کہا گیا سہیل آفریدی اسمبلی میں اپنی تنظیمی ایکٹیویٹی کرنا چاہتے ہیں، اسمبلی آنے کیلئے اجازت نامے کی ضرورت ہے، اسمبلی حدود ریڈ زون، سکیورٹی پیرامیٹرز ہوتے ہیں، سیاسی جماعتوں کے درمیان رابطے رہنے چاہئیں، سیاسی جماعتوں کی جڑیں پورے ملک میں ہونی چاہئیں، تمام سیاسی جماعتیں وفاق کو مضبوط کرتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں 50،50 لوگ جتھے کی صورت میں بھی داخل ہو جاتے ہیں، خیبرپختونخوا اسمبلی میں خواتین کے ساتھ نامناسب رویہ رکھا جاتا ہے، کل کسی دوست نے سوال کیا کہ وزیراعلیٰ کے پی پنجاب اسمبلی آئے وہاں کیا واقعہ پیش آیا۔ملک محمد احمد خان نے کہا کہ سہیل آفریدی کے ساتھ ایسے لوگ آئے جو گھیراؤ جلاؤ کے مقدمات میں نامزد ہیں، ایسے افراد کو پنجاب اسمبلی کی عمارت میں لایا گیا جو سزا یافتہ ہیں، ایسے افراد کو ساتھ لایا گیا جن کے پاس اجازت نامے اور شناختی کارڈ نہیں تھے، پی ٹی آئی مقدس مقامات کا احترام نہیں کرتی پنجاب اسمبلی کا کیا کرے گی، کسی کو اجازت نہیں کہ میرے گھر کو آگ لگا کر کہے یہ میرا سیاسی حق ہے۔سپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں اسمبلی جمہوری لوگوں کی مسجد ہوتی ہے، یہاں انہوں نے وزیراعلیٰ مریم نواز کے خلاف انتہائی نامناسب زبان استعمال کی، خیبرپختونخوا سے آئے لوگوں نے اپنی ذہنی پستی کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ میرا کام اس مائنڈسیٹ کی نشاندہی کرنا تھا، بطور سپیکر میرا کام سیاسی بیانات دینا نہیں، جو واقعہ پنجاب اسمبلی میں پیش آیا وہ عوام کے سامنے رکھ رہا ہوں، اس معاملے کو دیکھنے کیلئے ایک ہائی پاور انکوائری کمیٹی کو ذمہ داری سونپی تھی، پنجاب اسمبلی کے ایک ایک کونے کی سی سی ٹی وی سے مانیٹرنگ ہوتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پنجاب اسمبلی کی حفاظت کیلئے کئی اقدامات کئے، پنجاب اسمبلی میں سکیورٹی ایس اوپیز کا ضرور خیال رکھا جاتا ہے، ہر ایک کو انفرادی طور پر پنجاب اسمبلی کی حدود کے تقدس کا خیال رکھنا ہوگا، یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ جس کا دل کرے پنجاب اسمبلی کی حدود میں چھلانگیں مارتا پھرے۔ملک محمد احمد خان نے کہا کہ پی ٹی آئی والے ہر چیز میں کہتے ہیں ہمارا لیڈر پکڑا ہوا ہے، بانی پر انتہائی نوعیت کے کیسز ہیں، بانی پردرج مقدمات کو جرائم کے عام کیسز کے ساتھ ملایا نہیں جاسکتا، دنیا میں کہیں مثال نہیں ملتی کہ ایک ہی دن کئی ملٹری تنصیبات پر حملہ کیا جائے، سیاسی پارٹیوں کے دفاتر کو آگ لگائی اور کہا گیا یہ عوامی جذبات ہیں، 9 مئی کوئی عوامی ردعمل نہیں تھا بلکہ پورا پلان تھا۔سپیکر پنجاب اسمبلی کا مزید کہنا تھا کہ افواج پاکستان ہمارا فخر ہیں، کسی کو یہ حق نہیں کہ ہمارے فخر کو ہم سے چھینے، افواج کسی بھی ملک کا فخر ہوا کرتی ہیں، کسی کو یہ اجازت نہیں کہ میرے گھر کو آگ لگا کر کہے یہ میرا سیاسی حق ہے، یہی پلاننگ انہوں نے مکہ مکرمہ میں کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
اسلام ٹائمز: یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام خمینیؒ نے عالم اسلام میں ایک ایسی فکری اور سیاسی بیداری کو جنم دیا، جسکے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی شناخت، اپنی قوت اور اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا سکھایا، وحدت اور بیداری کا پیغام دیا اور ظلم و استبداد کے مقابلے میں حق و عدالت کی آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ یہی وہ میراث ہے، جس نے انہیں بیسویں صدی کی مؤثر ترین اسلامی شخصیات کی صف اول میں لا کھڑا کیا اور جسکی بازگشت آج بھی عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں سنائی دیتی ہے۔ تحریر: مجتبیٰ شجاعی
بیسویں صدی کی تاریخ میں ایسی عظیم اور غیر معمولی شخصیات نے جنم لیا، جنہوں نے اپنے افکار، کردار اور جدوجہد کے ذریعے دنیا کی سیاسی، سماجی اور فکری سمتوں کا رُخ موڑ دیا اور زمانے کی تقدیر بدل دی۔ حضرت امام خمینیؒ انہی نابغۂ روزگار اور درخشاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے نہ صرف ایران کی سیاسی تاریخ کو ایک نیا رخ عطا کیا، بلکہ پورے عالم اسلام کی فکری، ثقافتی اور سیاسی زندگی پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کیے۔ ان کی قیادت میں برپا ہونے والا اسلامی انقلاب محض ایک سیاسی تبدیلی نہ تھا بلکہ ایک ایسی فکری اور تہذیبی تحریک تھی، جس نے عالم اسلام میں دین، سیاست، آزادی، بیداری اور اجتماعی شعور کے بارے میں نئی بحثوں کو جنم دیا۔
بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینیؒ نے جب اپنی تحریک کا آغاز کیا، اس وقت عالم اسلام کا بیشتر حصہ سیاسی استبداد، بیرونی طاقتوں کے اثر و نفوذ، معاشی پسماندگی اور تہذیبی بحران کا شکار تھا۔ نوآبادیاتی دور کے اثرات ابھی تک مسلم معاشروں پر نمایاں تھے اور بہت سی اقوام اپنی تاریخی شناخت اور فکری خود اعتمادی سے محروم دکھائی دیتی تھیں۔ ایسے ماحول میں اسلامی انقلاب کی کامیابی نے مسلم دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اسلام صرف عبادات اور انفرادی زندگی تک محدود مذہب نہیں، بلکہ ایک زندہ اور متحرک نظام حیات ہے، جو معاشرے کی تنظیم، ریاست کی تشکیل اور اجتماعی مسائل کے حل کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
انقلاب اسلامی کی کامیابی کا سب سے بڑا اثر یہ تھا کہ اس نے مسلمانوں میں خود اعتمادی اور خود شناسی کے ایک نئے احساس کو جنم دیا۔ ایک طویل عرصے تک یہ تصور عام رہا تھا کہ ترقی اور جدیدیت کا راستہ صرف مغربی نمونوں کی تقلید سے ہو کر گزرتا ہے، لیکن امام خمینیؒ نے اس نظریئے کو عملاً چیلنج کیا۔ انہوں نے امت مسلمہ کو اپنی تہذیبی میراث، دینی اقدار اور داخلی صلاحیتوں پر اعتماد کرنے کی دعوت دی۔ ان کا پیغام یہ تھا کہ مسلمان اگر اپنی فکری بنیادوں سے وابستہ رہیں تو وہ نہ صرف اپنی آزادی اور وقار کا تحفظ کرسکتے ہیں بلکہ ترقی اور استحکام کی نئی منازل بھی طے کرسکتے ہیں۔
اسی فکری بیداری کے ساتھ امام خمینیؒ نے وحدت اسلامی کے تصور کو بھی غیر معمولی اہمیت دی۔ ان کے نزدیک عالم اسلام کو درپیش اکثر مسائل کی جڑ باہمی انتشار اور فرقہ وارانہ تقسیم تھی۔ وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ فقہی اور مسلکی اختلافات کو دشمنی کا سبب بنانے کے بجائے مسلمانوں کو اپنے مشترکہ عقائد، مشترکہ تاریخ اور مشترکہ مقاصد پر توجہ مرکوز کرنی چاہیئے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے اسلامی وحدت کو اپنی سیاسی اور فکری جدوجہد کا بنیادی ستون قرار دیا اور امت مسلمہ کو ایک وسیع تر اسلامی اخوت کے تصور سے روشناس کرایا۔
وحدت اسلامی کے اس تصور کے ساتھ ساتھ امام خمینیؒ نے مظلوم اقوام کی حمایت کو بھی اپنی فکر کا اہم حصہ بنایا۔ ان کے نزدیک ظلم خواہ کسی بھی شکل میں ہو اور مظلوم کسی بھی خطے، مذہب یا مسلک سے تعلق رکھتا ہو، اس کی حمایت اور مدد ایک انسانی اور اسلامی فریضہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطین کا مسئلہ ان کی فکر میں مرکزی حیثیت اختیار کر گیا۔ انہوں نے فلسطینی عوام کی جدوجہد کو صرف ایک قومی مسئلہ نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کا مشترکہ مسئلہ قرار دیا۔ "یومِ القدس" کا اعلان دراصل اسی سوچ کا مظہر تھا، جس کے ذریعے انہوں نے مسئلہ فلسطین کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کی۔
امام راحل حضرت امام خمینیؒ کی قیادت اور انقلاب اسلامی کے تجربے نے دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کو بھی متاثر کیا۔ مختلف ممالک میں سرگرم دینی اور سیاسی حلقوں نے انقلاب اسلامی کو ایک ایسی مثال کے طور پر دیکھا، جس نے عوامی طاقت، مذہبی قیادت اور سیاسی عزم کے امتزاج سے ایک مضبوط نظام کو شکست دی۔ اگرچہ ہر ملک کے حالات اور تقاضے مختلف تھے، تاہم انقلاب اسلامی نے یہ احساس ضرور پیدا کیا کہ عوامی شعور اور نظریاتی استقامت کے ذریعے بڑی سیاسی تبدیلیاں ممکن ہیں۔
فکری سطح پر حضرت امام خمینیؒ کا ایک اہم کارنامہ دین اور سیاست کے تعلق کو ازسرنو موضوعِ بحث بنانا تھا۔ جدید دور میں یہ تصور بڑی حد تک رائج ہوچکا تھا کہ مذہب کو صرف انفرادی اور روحانی معاملات تک محدود رہنا چاہیئے، لیکن امام خمینیؒ نے اسلام کی جامعیت پر زور دیتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ دین انسانی زندگی کے تمام شعبوں کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ان کے اس نظریئے نے مسلم دنیا میں حکومت اسلامی، عوامی شرکت، دینی قیادت اور ریاست کے اسلامی تشخص کے بارے میں وسیع علمی مباحث کو جنم دیا۔
سیاسی میدان میں امام خمینیؒ کی فکر کا ایک نمایاں پہلو استعمار اور عالمی بالادستی کے خلاف مزاحمت تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ سیاسی آزادی اسی وقت معنی خیز ہوسکتی ہے، جب اس کے ساتھ فکری، ثقافتی اور معاشی آزادی بھی موجود ہو۔ ان کے نزدیک کسی بھی قوم کی عزت اور خود مختاری کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ اپنی داخلی صلاحیتوں پر اعتماد کرے اور بیرونی طاقتوں کے تسلط سے آزاد رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا استقلال اور خود انحصاری کا پیغام دنیا کے مختلف مسلم معاشروں میں وسیع پذیرائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔
ثقافتی اعتبار سے بھی امام خمینیؒ نے مسلم معاشروں میں اسلامی شناخت کے احیاء میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے بارہا اس بات کی نشاندہی کی کہ تہذیبی خود فراموشی اور فکری مرعوبیت کسی بھی قوم کو اس کی اصل طاقت سے محروم کر دیتی ہے۔ اس لیے وہ اسلامی اقدار، دینی تعلیمات اور تہذیبی ورثے کی حفاظت کو ترقی اور بیداری کے لیے ناگزیر قرار دیتے تھے۔ ان کے یہ افکار خصوصاً نوجوان نسل میں ایک نئے فکری رجحان کا باعث بنے اور انہیں اپنی تہذیبی شناخت پر فخر کرنے کا حوصلہ ملا۔
بانی انقلاب کی شخصیت صرف ایک سیاسی رہبر تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ ایک ممتاز فقیہ، عارف، فلسفی اور مفکر بھی تھے۔ ان کی علمی اور فکری کاوشوں نے انہیں عالم اسلام کے دانشور طبقے میں ایک منفرد مقام عطا کیا۔ ان کی فقہی، عرفانی اور سیاسی تصانیف مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوئیں اور دنیا بھر کے علمی مراکز میں ان پر تحقیق کا سلسلہ جاری رہا۔ اس طرح ان کے افکار محض سیاسی حلقوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ علمی اور فکری دنیا میں بھی وسیع اثرات کے حامل ثابت ہوئے۔
4 جون 1989ء میں حضرت امام خمینیؒ کی رحلت نے پورے عالم اسلام کو سوگوار کر دیا۔ ان کے جنازے میں لاکھوں انسانوں کی شرکت اس حقیقت کا واضح ثبوت تھی کہ امام خمینیؒ کسی مخصوص طبقہ، کسی مخصوص مسلک یا صرف ایک ملک کے رہنما نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی اسلامی شخصیت کی حیثیت اختیار کرچکے تھے۔ آج ان کی رحلت کے کئی عشروں بعد بھی ان کے افکار، نظریات اور سیاسی تصورات عالم اسلام کی فکری اور سیاسی زندگی میں زندہ ہیں۔ استقلال، وحدت اسلامی، دفاع مظلوم، عوامی شرکت اور اسلامی تشخص جیسے موضوعات اب بھی مسلم دنیا کے اہم مباحث میں شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاصر عالم اسلام کی سیاسی و فکری تاریخ کا مطالعہ امام خمینیؒ کے کردار اور اثرات کے جائزے کے بغیر نامکمل تصور کیا جاتا ہے۔
مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام خمینیؒ نے عالم اسلام میں ایک ایسی فکری اور سیاسی بیداری کو جنم دیا، جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی شناخت، اپنی قوت اور اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا سکھایا، وحدت اور بیداری کا پیغام دیا اور ظلم و استبداد کے مقابلے میں حق و عدالت کی آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ یہی وہ میراث ہے، جس نے انہیں بیسویں صدی کی مؤثر ترین اسلامی شخصیات کی صف اول میں لا کھڑا کیا اور جس کی بازگشت آج بھی عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں سنائی دیتی ہے۔ (مضمون نگار صحافی اور ریسرچ اسکالر ہیں)