عظمیٰ بخاری: ہم بلدیاتی انتخابات کے لیے تیار ہیں، تاریخ کا انتظار ہے
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ ہم بلدیاتی انتخابات کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور صرف انتخابات کی تاریخ کا انتظار کر رہے ہیں۔ جیو نیوز کے پروگرام جیو پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پنجاب کے تمام ضمنی انتخابات مسلم لیگ ن نے جیتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ جلد از جلد بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں تاکہ عوام کو درست راستہ دکھایا جا سکے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ تحریک انصاف کو جمہوری حق استعمال کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پنجاب اسمبلی میں 30 افراد کی فہرست جمع کرائی گئی تھی اور اسمبلی کوئی ایسا جگہ نہیں تھی کہ جو چاہے اندر گھس جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بعض لوگ گارڈ کو دھکے مار کر، دروازے توڑ کر زبردستی اندر داخل ہوئے، لیکن یہ لوگ سیاسی سرگرمیاں انسانی رویے کی طرح کیوں نہیں کر سکتے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ اسمبلی کی حدود میں استعمال کی گئی زبان کے باوجود حکومت نے کوئی ردعمل نہیں دیا، جبکہ سروس ایریا میں محسن نقوی کے خلاف شفیع جان نے غیر مناسب زبان استعمال کی۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اگر ہم ایکشن لیتے تو کہا جاتا کہ مہمان تھے، گاڑی چیک کرتے تو کہا جاتا کہ مہمان کی توہین کی گئی۔ ان کی بدتمیزی اور غیر مناسب جملوں کو نظر انداز کرنا بھی ہمارے لیے جرم سمجھا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ مطالعاتی دورے پر لاہور آئے تھے اور واپسی کا دل نہیں کر رہا تھا، کیونکہ یہ سیاسی جماعت مذاکرات پر یقین نہیں رکھتی بلکہ این آر او کی خواہاں ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔