Jasarat News:
2026-06-02@22:08:45 GMT

قدرتی وسائل سے مالامال سندھ مسائل کا شکار ہوگیاہے

اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سکھر (نمائندہ جسارت )ممتاز سیاسی و سماجی رہنما ایڈووکیٹ سید شفقت علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ پاکستان کا قدیم، زرخیز اور قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہونے کے باوجود متعدد سنگین مسائل کا شکار ہے۔ دریاؤں، گیس، بندرگاہوں اور دیگر قدرتی وسائل کی موجودگی کے باوجود سندھ کا عام شہری آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم نظر آتا ہے۔اپنے بیان میں ایڈووکیٹ سید شفقت علی شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ کی معیشت کا بڑا انحصار زراعت پر ہے، مگر دریائے سندھ میں پانی کی قلت، اپ اسٹریم سے پانی روکے جانے اور غیر منصفانہ تقسیم کے باعث آبادگار شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ٹیل کے علاقوں تک پانی نہ پہنچنے سے زرعی زمینیں بنجر ہو رہی ہیں جبکہ چاول، کپاس اور گنے کی پیداوار میں نمایاں کمی کے باعث ہاری اور کاشتکار معاشی بدحالی کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سندھ خصوصاً دیہی علاقوں میں صحت کی سہولیات انتہائی ناکافی ہیں۔سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کی کمی، ادویات کی قلت اور بنیادی سہولیات نہ ہونے کے باعث خواتین اور بچوں کی اموات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نجی اسپتالوں کے بھاری اخراجات کے سبب دیہی آبادی کو معمولی علاج کے لیے بھی شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ایڈووکیٹ سید شفقت علی شاہ نے تعلیم کی زبوں حالی کو سندھ کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہزاروں اسکول بند پڑے ہیں یا گھوسٹ اسکول بن چکے ہیں۔اساتذہ کی غیر حاضری، تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کی کمی اور نجی اسکولوں کی بھاری فیسوں کے باعث لاکھوں بچے تعلیم سے محروم ہو رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بے روزگاری اور مہنگائی نے سندھ کے نوجوانوں کو شدید مایوسی میں مبتلا کر دیا ہے۔ روزگار کے محدود مواقع، صنعتوں کی بندش اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث عام آدمی کے لیے گزارہ مشکل ہو چکا ہے، یہاں تک کہ آٹا، تیل، چینی اور ادویات جیسی بنیادی اشیائے ضروریہ خریدنا بھی مشکل بنتا جا رہا ہے۔امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کچے کے علاقوں میں ڈاکو راج، اغوا، ڈکیتیاں اور قبضہ مافیا نے سندھ کے امن کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ تاجر، زمیندار اور صنعتکار عدم تحفظ کا شکار ہیں جبکہ پولیس نظام پر عوام کا اعتماد کم ہوتا جا رہا ہے۔خواتین اور بچوں کیساتھ زیادتی کیواقعات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔انہوں نے انفراسٹرکچر اور شہری مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شہروں اور دیہاتوں میں بنیادی ڈھانچہ انتہائی خستہ حال ہے۔ ٹوٹی سڑکیں، ناقص نکاسی آب کا نظام، صاف پینے کے پانی کی قلت اور بارشوں کے دوران شہروں کا زیر آب آ جانا معمول بن چکا ہے۔

اسٹاف رپورٹر.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انہوں نے کا شکار کے باعث رہا ہے کہا کہ

پڑھیں:

بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا

گلگت: بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وہ دعا گو ہیں کہ جنگ کے خاتمے کے لیے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں کیونکہ خطے اور دنیا میں امن کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔

گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایران میں ایک اسکول پر میزائل حملے کے نتیجے میں معصوم بچوں کی شہادت افسوسناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کا بوجھ صرف متاثرہ ممالک ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے عوام اٹھا رہے ہیں، اس لیے امن کی تمام کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ ملک میں کوئی ایسا سیاستدان نہیں جس نے ان کی طرح ملک کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا ہو۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ گلگت بلتستان کی ہر تحصیل تک پہنچے ہیں اور عوام کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں۔

انہوں نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کا واحد ایسا فلاحی پروگرام ہے جو براہِ راست غریب عوام تک پہنچتا ہے۔ ان کے مطابق اس پروگرام کے خلاف کی جانے والی تمام سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان کے دفاع کو مضبوط بنانے میں ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بینظیر بھٹو کا تاریخی کردار رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کو دفاعی اور معاشی دونوں لحاظ سے مضبوط ہونا چاہیے اور ایسی معاشی پالیسی اختیار کی جانی چاہیے جس سے عام آدمی کو فائدہ پہنچے۔

انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام کو یقین دلایا کہ پیپلز پارٹی مقامی لوگوں کو ان کے وسائل پر حق ملکیت دلانے کے لیے کام کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقیاتی منصوبوں میں مقامی آبادی کو حصہ دار بنایا جانا چاہیے تاکہ ترقی کے ثمرات سب سے پہلے مقامی لوگوں تک پہنچ سکیں۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اگر عوام نے انتخابات میں ان کی جماعت پر اعتماد کیا تو گلگت بلتستان میں صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟