Jasarat News:
2026-07-24@01:28:01 GMT

قدرتی وسائل سے مالامال سندھ مسائل کا شکار ہوگیاہے

اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سکھر (نمائندہ جسارت )ممتاز سیاسی و سماجی رہنما ایڈووکیٹ سید شفقت علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ پاکستان کا قدیم، زرخیز اور قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہونے کے باوجود متعدد سنگین مسائل کا شکار ہے۔ دریاؤں، گیس، بندرگاہوں اور دیگر قدرتی وسائل کی موجودگی کے باوجود سندھ کا عام شہری آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم نظر آتا ہے۔اپنے بیان میں ایڈووکیٹ سید شفقت علی شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ کی معیشت کا بڑا انحصار زراعت پر ہے، مگر دریائے سندھ میں پانی کی قلت، اپ اسٹریم سے پانی روکے جانے اور غیر منصفانہ تقسیم کے باعث آبادگار شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ٹیل کے علاقوں تک پانی نہ پہنچنے سے زرعی زمینیں بنجر ہو رہی ہیں جبکہ چاول، کپاس اور گنے کی پیداوار میں نمایاں کمی کے باعث ہاری اور کاشتکار معاشی بدحالی کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سندھ خصوصاً دیہی علاقوں میں صحت کی سہولیات انتہائی ناکافی ہیں۔سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کی کمی، ادویات کی قلت اور بنیادی سہولیات نہ ہونے کے باعث خواتین اور بچوں کی اموات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نجی اسپتالوں کے بھاری اخراجات کے سبب دیہی آبادی کو معمولی علاج کے لیے بھی شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ایڈووکیٹ سید شفقت علی شاہ نے تعلیم کی زبوں حالی کو سندھ کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہزاروں اسکول بند پڑے ہیں یا گھوسٹ اسکول بن چکے ہیں۔اساتذہ کی غیر حاضری، تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کی کمی اور نجی اسکولوں کی بھاری فیسوں کے باعث لاکھوں بچے تعلیم سے محروم ہو رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بے روزگاری اور مہنگائی نے سندھ کے نوجوانوں کو شدید مایوسی میں مبتلا کر دیا ہے۔ روزگار کے محدود مواقع، صنعتوں کی بندش اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث عام آدمی کے لیے گزارہ مشکل ہو چکا ہے، یہاں تک کہ آٹا، تیل، چینی اور ادویات جیسی بنیادی اشیائے ضروریہ خریدنا بھی مشکل بنتا جا رہا ہے۔امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کچے کے علاقوں میں ڈاکو راج، اغوا، ڈکیتیاں اور قبضہ مافیا نے سندھ کے امن کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ تاجر، زمیندار اور صنعتکار عدم تحفظ کا شکار ہیں جبکہ پولیس نظام پر عوام کا اعتماد کم ہوتا جا رہا ہے۔خواتین اور بچوں کیساتھ زیادتی کیواقعات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔انہوں نے انفراسٹرکچر اور شہری مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شہروں اور دیہاتوں میں بنیادی ڈھانچہ انتہائی خستہ حال ہے۔ ٹوٹی سڑکیں، ناقص نکاسی آب کا نظام، صاف پینے کے پانی کی قلت اور بارشوں کے دوران شہروں کا زیر آب آ جانا معمول بن چکا ہے۔

اسٹاف رپورٹر.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انہوں نے کا شکار کے باعث رہا ہے کہا کہ

پڑھیں:

سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن


فائل فوٹو 

وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، گریڈ ایک سے 16 تک ملازمین کا سفری الاؤنس بڑھا دیا گیا ہے۔

سندھ کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ  سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس اسٹاف کی ہیلتھ انشورنس میں چھ ماہ کی توسیع کی ہے، معیشت، سرمایہ کاری، مالیات، آبی وسائل سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں، موسمیاتی تبدیلی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں۔

شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ نے گٹکا اور مین پوری کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی منظوری دی ہے، گٹکا ماوا کیخلاف کارروائی نارکوٹکس کنٹرول کا محکمہ کرے گا، قانون سازی کر رہے ہیں۔

کراچی آپریشن میں ایسے دہشتگرد سامنے آئے جو کے ایم سی، واٹر بورڈ کے ملازم تھے، شرجیل میمن

شرجیل میمن نے کہا کہ ملازمین عملی کام کے بجائے یونٹ، سیکٹر دفاتر میں بیٹھے رہتے تھے، صحافی ولی خان بابر نے ایسے معاملات کی رپورٹنگ کی تھی بعد میں انھیں قتل کر دیا گیا۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ زراعت کے شعبے کو نقصان نہ ہو، قانون میں گندم کی ترسیل روکنے کی ممانعت ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل روکی ہوئی ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل کیلئے بارڈر سیل کیے ہیں، ہم مذمت کرتے ہیں، گندم کی فصل بہت اچھی ہوئی، سندھ میں کچھ لوگوں نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کر رکھی ہے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت پانچ لاکھ میٹرک ٹن گندم امپورٹ کرے گی، پاسکو سے بھی گندم خریدی جائے گی، ان اقدامات سے گندم ذخیرہ کرنے والوں کو بہت نقصان ہوگا، ناردرن بائی پاس پر 4 سو ایکڑ پر ٹرک اسٹینڈ بنانے جارہے ہیں۔

خالد مقبول، مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس آئین سے ناواقفیت کی واضح علامت ہے، شرجیل میمن

شرجیل میمن نے کہا کہ افسوس کی بات ہےان دونوں رہنماؤں نے آئین اور قانون کا سنجیدہ مطالعہ نہیں کیا، مطالعہ کرتے تو اس نوعیت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کرتے۔

صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ مون سون کے موقع پر تمام اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، کے پی کے اور پنجاب میں بارشوں سے اموات ہوئی ہیں، حیرت کی بات ہے ہمارے میڈیا نے پر اس پر خاموشی رکھی ہوئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کر بارش سے پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں کے حالات خراب ہیں،  ملک بھر میں بارشوں سے بہت تباہی ہوئی ہے، پنجاب میں بارشوں سے 17 افراد جاں بحق ہوئے، خیبر پختونخوا میں بارشوں سے 20 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔

شرجیل میمن نے کہا کہ  کشمیر میں انتخابات چل رہے ہیں، کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ ن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن