شاہ فیصل ٹائون:کھلا مین ہول 8 سالہ دلبر علی کی جان نگل گیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251230-01-21
کراچی (رپورٹ: منیر عقیل انصاری) میئر کراچی کی کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کی ایمرجنسی ہیلپ لائن 1334ایک بار پھرکسی کام نہیں آئی شاہ فیصل ٹائون کی حدود میں کھلا مین ہول ایک اور بچے کی جان نگل گیا۔کراچی میں اس سال صرف کھلے نالوں اور گٹروں میں گرنے سے 6 بچوں سمیت20 شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ مین ہولز اور نالوں میں گرکر جاں بحق ہونے کایہ 27 واں واقعہ ہے اور کورنگی میں یہ مسلسل تیسرا واقعہ ہے،واضح رہے کہ اس سے قبل بھی نیپاچورنگی کے قریب ایک کھلے مین ہول میں 3 سالہ بچہ گر کر جاں بحق ہوچکا ہے اور واقعے کے 14 گھنٹے بعد بچے کی لاش ایک کلو میٹر دور نالے سے ملی تھی۔ تفصیلات کے مطابق کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن اور شاہ فیصل ٹاون انتظامیہ کی غفلت کے باعث ایک اور بچہ گٹر میں گرکر جاں بحق ہوگیا ہے، کورنگی مہران ٹاؤن سیکٹر 6 جی میں 8 سالہ بچہ دلبر علی گٹر میں گر کر جاں بحق ہوگیا ہے ،حادثے کے وقت گٹر کے اوپر ڈھکن موجود نہیں تھا،کراچی کے مین ہولز اور نالوں میں گرکر جاں بحق ہونے کا 27 واں واقعہ ہے اور کورنگی میں مسلسل تیسرا واقعہ ہے واقعہ کے بعد اسسٹنٹ کمشنر ڈپٹی کمشنر اور دیگر کوئی متعلقہ ادارہ بروقت نہیں پہنچ سکا ،علاقہ مکین اور فلاحی اداروں کے رضاکار موجود تھے۔ ٹائون انتظامیہ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ واقعہ مہران ٹاؤن سیکٹر 6 جی میں پیش آیا ہے، بچہ کی شناخت 8 سالہ دلبر علی ولد اصغر علی کے نام سے ہوئی ہے۔یاد رہے کہ نیپاچورنگی کے قریب کمسن ابراہیم کی ہلاکت سے بھی شہری انتظامیہ نے سبق حاصل نہیںکیااور انتظامیہ کی غفلت سے ایک اور بچہ گھلے گٹر میں کر جاں بحق ہوگیا ہے،علاقے مکینوں کا کہنا ہے کہ شاہ فیصل ٹائون کے چیئرمین اور یو سی چیئرمین کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ میئر کراچی نے شہریوں کو ایک ایمرجنسی ہیلپ لائن 1334کی نوید سناتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ شہری اپنے علاقے میں کھلے مین ہول کی نشاندہی کریں تو 24گھنٹے کے اندر کھلے مین ہول کو ڈھکن لگا کر بند کردیا جائے گا تاہم ہیلپ لائن پر موجود عملہ احکامات کو نظر انداز کردیتا ہے۔ علاقہ مکینوں کا کہنا تھا کہ ہم نے متعدد بار واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کی ایمرجنسی ہیلپ لائن 1334 پر گٹر کے ڈھکن لگانے کی شکایت درج کروائی تھی تاہم دو ہفتے بعد بھی کوئی کارروائی نہیں کی گئی جس کی وجہ سے کراچی کا ایک اور ماں کا لعل کھلا مین ہول میں گر جان بازی ہار گیا ہے ۔شہریوں کا مزید کہنا تھا کہ میئر کراچی جو کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے چیئر مین ہیں لیکن ان کی عدم توجیہی کے باعث کراچی کے متعدد علاقوں میں کھلے نالوں اور گٹروں میں گرنے سے قیمتی انسانی جانیں گئی ہیں ۔شہریوں کا کہنا تھ اکہ بڑھتے ہوئے کھلے مین ہولز اور نالوں کی وجہ سے عوامی مقامات پر حادثات میں اضافہ ہو رہا ہے۔حادثے کے وقت علاقہ مکینوں نے بروقت اقدامات کر کے بچے کو باہر نکالا تاہم وہ زندہ نہ بچ سکا، جس کے بعد ریسکیو حکام نے لاش کو ضابطے کی کارروائی کیلیے جناح اسپتال منتقل کردیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: واٹر اینڈ سیوریج کھلے مین ہول ہیلپ لائن شاہ فیصل واقعہ ہے ایک اور کا کہنا
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.