حادثات و واقعات میں جامعہ کراچی کے ملازم سمیت7 افراد جاں بحق،5 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) شہر کے مختلف علاقوں میں حادثات و پر تشدد واقعات کے دوران خواتین سمیت 7افرد جاںبحق ہوگئے دیگر واقعات میں 5افراد زخمی ہوئے ۔ تفصیلات کے مطابق سچل تھانے کی حدود صفورا الاظہر گارڈن مہران بنگلوذ کے قریب جھاڑیوں سے بوری میں بند ایک شخص کی لاش ملی۔ متوفی کی شناخت37سالہ رحمت علی ولد محمد اکرم کے نام سے کی گئی ۔ مقتول جامعہ کراچی کے ایچ ای جے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف کیمسٹری کا ملازم تھا۔ وہ پہلے جامعہ کے اسٹاف ٹاؤن میں رہائش پذیر تھا تاہم حال ہی میں سچل گوٹھ منتقل ہوا تھا۔مقتول کی والدہ نے پولیس کو بتایا کہ ان کا بیٹا اتوار کو یہ کہہ کر گھر سے نکلا تھا کہ وہ اپنا موبائل فون ٹھیک کروانے جا رہا ہے، مگر واپس نہیں لوٹا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی۔پولیس کے مطابق بظاہر ایسا لگتا ہے کہ رحمت علی کو کہیں اور قتل کیا گیا اور بعد ازاں لاش سنسان علاقے میں لا کر پھینک دی گئی۔ ادھر پیر آباد تھانے کی حدود نصرت نگر میں جھگڑے کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہونے والے 28 سالہ پیٹر ولد یعقوب اسپتال میں دوران علاج دم توڑ گیا ۔ اہل خانہ کے مطابق مقتول پیٹر ڈاؤ یونیورسٹی اسپتال میں سینئر پیرا میڈیکل اسٹاف کے طور پر کام کرتا تھا اور دو بچوں کا باپ تھا۔ بدقسمتی سے واقعے کے دن ان کی بیٹی کی سالگرہ بھی تھی۔ اہل خانہ نے بتایا کہ مقتول جھگڑے کے بعد صلح کروانے کے لیے گیا تھا، جب دو ملزمان نے اس پر فائرنگ کر دی۔ فائرنگ میں مقتول کو پیٹ میں گولی لگی، اور ملزمان فرار ہو گئے۔پولیس حکام نے تصدیق کی کہ واقعہ ذاتی جھگڑے کے دوران پیش آیا اور مقدمہ درج کر کے ملزمان کی گرفتاری کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ جبکہ گلستان جوہر پہلوان گوٹھ میں نامعلوم سمت سے گولی لگنے سے زخمی دم توڑ گیا، ریسکیو حکام کے مطابق مقتول کی شناخت 22 سالہ حضور بخش چانڈیو کے نام سے ہوئی ہے۔ اسی طرح مدینہ کالونی کے علاقے بلدیہ ٹاون سیکٹر 24 کی مارکیٹ اقبال نہاری کے قریب تیز رفتار گاڑی کی زد میں آ کر 70سالہ عمر رسیدہ خاتون جاں بحق ہو گئی۔متوفیہ کی تاحال شناخت نہ ہو سکی۔ شارع فیصل تھانے کی حدود گلستان جوہر بلاک 9 میں واقع ال حبیب یونیورسٹی کے قریب بزرگ خاتون کی کئی روز پرانی لاش برآمد ہوئی ہے۔متوفیہ کی شناخت 60 سالہ نجمہ الرحمٰن دختر یامین الرحمٰن کے نام سے ہوئی ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لاش 7 سے 8 روز پرانی ہے، جسے قانونی کارروائی کے لیے جناح اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔کلاکوٹ تھانے کی حدود لیاری نبی داد لائن اسٹریٹ ون لیاری گھر سے ایک شخص کی گلے میں پھندا لگی لاش ملی، متوفی کی شناخت60سالہ محمد یونس ولد عبدالغفور کے نام سے کی گئی ، متوفی نجی کمپنی میں ملازمت کرتا تھا اور تین بیٹیوں کا باپ تھا ، متوفی کی اہلیہ ان دنوں اپنی ایک بیٹی کے ہمراہ عمرے پر گئی ہوئی ہے جبکہ دو بیٹیاں گھر پر موجود تھیں متوفی ذہنی دباو کا شکار تھا۔ ملیر سٹی تھانے کی حدود ملیر جناح اسکوائر نزد ابراھیم مسجد کے قریب گٹر کی صفائی کے دوران دم گھٹنے سے 35سالہ خاکروب ہلاک ہوگیا ۔ دوسری جانب زمان ٹاون تھانے کی حدود کورنگی کوسٹ گارڈ چورنگی کے قریب شادی ہال کے سامنے فائرنگ کی زد میں اکر 30 سالہ عامر ولد عمر زخمی ہوا ۔ادھر سولجر بازار تھانے کی حدود میں نامعلوم سمت سے آنے والی لگنے سے25 سالہ ظفیر اللہ ولد محمد نعیم زخمی ہوگیا ۔گلشن معمار تھانے کی حدود گلشن معمار غنی آباد کے قریب ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر 35سالہ ریاض ولد اللہ بخش زخمی ہوگیا ۔ ناظم آباد نمبر 3 میں اندھی گولی لگنے سے فیصل ولد رفیق، عمر 38 سالہ، زخمی ہو گیا۔ لانڈھی تھانے کی حدود کربلا گراؤنڈ لانڈھی کے قریب اندھی گولی لگنے سے 12 سالہ عفان ولد خرم زخمی ہوگیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: تھانے کی حدود کے نام سے کے مطابق کے دوران کے قریب لگنے سے ہوئی ہے زخمی ہو
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔