Jasarat News:
2026-06-03@04:41:39 GMT

تُرک پولیس کی کارروائی میں داعش کے 6جنگجو اور 3اہل کار ہلاک

اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

انقرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) ترکیہ میں داعش کے عسکریت پسندوں کے ساتھ تصادم میں 6شدت پسند اور 3پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے۔ ترک وزیر داخلہ کے مطابق جھڑپ میں 8پولیس اہلکار زخمی بھی ہو گئے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق شمال مغربی ترکیہ کے یالووا صوبے میں پیر کے روز داعش کے مشتبہ عسکریت پسندوں سے جھڑپ ہوئی۔ پولیس ٹیموں نے استنبول کے جنوب میں بحیرہ مرمرہ کے ساحل پر یالووا کے ایک قصبے کے قریب ایک مکان پر کارروائی شروع کی تھی جس کے بارے میں خیال تھا کہ وہاں عسکریت پسند موجود تھے۔ اطلاع کے مطابق زخمی پولیس اہلکاروں کی حالت تشویشناک نہیں بتائی گئی۔ پولیس نے کارروائی شروع کی تو مشتبہ افراد نے ان پر فائرنگ کی۔ کمک فراہم کرنے کے لیے صوبہ برسا سے پولیس کے خصوصی دستے اس علاقے میں بھیجے گئے تھے۔ یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے ترک پولیس نے داعش کے 115 مشتبہ ارکان کو حراست میں لیا جن کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہ ملک میں کرسمس اور سالِ نو کی تقریبات پر حملے کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ استنبول کے چیف پراسیکیوٹر کے دفتر نے اس وقت کہا تھا کہ عسکریت پسند خاص طور پر غیر مسلموں کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ کئی برس قبل استنبول کے نائٹ کلب اور شہر کے مرکزی ائرپورٹ پر داعش کے حملے میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔

انٹرنیشنل ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: داعش کے

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا