سوڈان : 3روز میں 10 ہزار سے زائد افراد بے گھر
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
خرطوم (انٹرنیشنل ڈیسک) سوڈان کی ریاستوں شمالی دارفور اور جنوبی کردفان میں فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے درمیان جاری لڑائی کے دوران 3دنوں میں 10ہزار سے زیادہ افراد بے گھر ہو گئے۔ اقوام متحدہ سے وابستہ بین الاقوامی تنظیم برائے ہجرت (آئی او ایم ) نے بتایا کہ 7ہزار سے زیادہ لوگ شمالی دارفور کے شہروں ام برو اور کرنوی سے فرار ہوئے ہیں جن پر چند روز قبل آر ایس ایف نے قبضہ کر لیا تھا۔ اقوام متحدہ کے مطابق جنوبی کردفان میں 3ہزار سے زیادہ لوگ کادوقلی شہر سے فرار ہوئے جس کا آر ایس ایف نے محاصرہ کر رکھا ہے اور یہ فوج کے کنٹرول میں ہے۔ وہاں کے رہائشی قحط کا شکار ہیں۔ جنوبی کردفان ہی میں ابو جبیہہ کے علاقے میں آگ لگنے سے بے گھر افراد کی 45 پناہ گاہیں خاکستر ہو گئیں۔ ریپڈ سپورٹ فورسز نے بدھ کے روز شمالی دارفور کے شہروں ابو قمرہ اور ام برو پر قبضے کا اعلان کیاتھا۔ مقامی ذرائع ابلاغ بتایا کہ آر ایس ایف کے جنگجو سوڈان کی شمال مغربی سرحد پر الزغاوہ قبیلے کے علاقوں کی طرف بڑھ رہے ہیں اور علاقے میں جھڑپیں تیز ہو گئی ہیں۔ اکتوبر میں الفاشر شہر پر قبضے کے ذریعے جب سے آر ایس ایف نے پڑوسی علاقے دارفور پر اپنی گرفت مضبوط کی ہے، حالیہ مہینوں میں کردفان کے شہروں میں لڑائی میں شدت آئی ہے۔ عبدالفتاح البرہان کی قیادت میں فوج اور ان کے سابق نائب محمد حمدان دقلو کی قیادت میں ریپڈ سپورٹ فورسز اپریل 2023 سے آپس میں لڑائی کر رہے ہیں۔ اس جنگ کی وجہ سے اقوام متحدہ کے مطابق دنیا کا بدترین انسانی بحران پیدا ہو چکا ہے۔ جنگ کے آغاز سے اب تک ایک کروڑ سے زیادہ افراد سوڈان کے اندر اور باہر بے گھر ہو چکے ہیں جن کا ایک بڑا حصہ پر ہجوم کیمپوں یا دور دراز شہروں میں رہ رہا ہے جہاں خوراک، ادویات اور صاف پانی کی شدید قلت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ا ر ایس ایف سے زیادہ بے گھر
پڑھیں:
ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟
سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔
یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔
تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔
مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں
انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔
ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔
تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔
ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔
تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید
ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر