data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251230-08-25
کراچی( اسٹاف رپورٹر)امیرجماعت اسلامی سندھ کاشف سعید شیخ نے شکارپور میں قبائلی دہشت گردی کے حملے میں دلہا سمیت 3 افراد کے جاں بحق ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے لاقانونیت کی انتہا اور سندھ میں پیپلزپارٹی کے 17 سالہ سیاہ دور کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچا کر قرار واقعی سزا دی جائے۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ شکارپور میں خون کی ہولی میں حکومت، قانون اور انصاف کہاں ہے؟ سندھ میں بڑھتے ہوئے قبائلی تنازعات ایک لعنت بن چکے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت قبائلی دہشت گردی میں ملوث ظالم سرداروں کی پشت پناہی ختم کرے۔ 18 مہینوں کے دوران صرف ایک مہراورجتوئی قبائلی تنازعات میں 50 سے زاید جانیں ضائع ہوئیں جبکہ سیکڑوں خاندان اور ہزاروں گھراجڑہو چکے ہیں۔ قبائلی تنازعات کی وجہ سے امن کا پرندہ اڑ گیا ہے۔ تعلیم اور کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے لیکن حکومت گہری نیند میں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ سندھ حکومت ڈاکوراج سے لے کر قبائلی تنازعات جیسے ناسور کو ختم کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ قبائلی تنازعات میں ملوث ظالم سرداروں کو پیپلز پارٹی کی حکومت کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔ حکومت لڑو اور حکومت کرو کے فارمولے پر چل رہی ہے۔ صوبے میں ظالم سرداری نظام کے خاتمے کے بغیر نہ قبائلی تنازعات ختم ہوں گے اور نہ ہی سندھ کی ترقی اور عوام کے مسائل حل ہوں گے۔ انہوں نے متاثرہ خاندان سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے مرحومین کی مغفرت اور پسماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعا کی ہے۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: قبائلی تنازعات

پڑھیں:

سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان

مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث

شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار