فیشن، نفاست اور سردی سے بچاؤ شال کا خاصہ، لیکن یہ والی اتنی مہنگی کیوں؟
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
سردیاں آتے ہی ہر خاتون کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ انہیں ایک ایسی شال مل جائے جو نہ صرف خوبصورت ہو بلکہ گرم بھی ہو اور بجٹ فرینڈلی بھی۔
یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان میں سردیاں کیسے گزاری جاتی ہیں؟
شال محض سردی سے بچاؤ کا ذریعہ نہیں ہوتی بلکہ یہ خاتون کی شخصیت، انداز اور نفاست کو بھی نمایاں کرتی ہے۔ ایک خوبصورت شال نہ صرف لباس کو مکمل کرتی ہے بلکہ سردیوں کے فیشن میں وقار اور دلکشی کا اضافہ بھی کرتی ہے۔
مگر کیا آپ نے کبھی 8 لاکھ روپے کی شال دیکھی یا خریدی ہے؟ جی ہاں، بعض شالیں صرف گرم اور خوبصورت ہی نہیں ہوتیں بلکہ یہ لگژری، نفاست اور اعلیٰ کاریگری کی ایک مثال بھی ہوتی ہیں جو عام شالوں سے بالکل مختلف ہوتی ہیں۔
مزید پڑھیے: کوئٹہ میں بڑھتی سردی کی بعد قہوہ خانوں میں شہریوں کا جم غفیر
8 لاکھ روپے کی شال آخر کون سی ہے اور اس میں ایسا کیا خاص ہے جو اسے عام شالوں سے منفرد بناتا ہے؟ جانیے ان سوالوں کے جواب اس ویڈیو رپورٹ میں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
شال اور خواتین قیمتی شال گرم شال لاکھوں روپوں کی شال مہنگی شال.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: شال اور خواتین قیمتی شال گرم شال مہنگی شال
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔