Jasarat News:
2026-07-24@05:25:49 GMT

پاکستان: کیا یہ امت ِ مسلمہ کے احیا کی آخری امید ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

امت ِ مسلمہ کی تاریخ عروج و زوال کی داستانوں سے بھری ہوئی ہے۔ کبھی بغداد علم و حکمت کا مرکز تھا، قرطبہ تہذیب و تمدن کی علامت، قاہرہ فکر و فقہ کا گہوارہ اور دہلی اسلامی اقتدار و ثقافت کا مضبوط ستون۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ داخلی انتشار، فکری جمود، اخلاقی زوال اور بیرونی سازشوں نے اس عظیم امت کو اس مقام پر لا کھڑا کیا جہاں آج سوال صرف یہ نہیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ آگے بڑھنے کی کوئی راہ باقی ہے یا نہیں۔ ایسے میں پاکستان کا تصور، وجود اور کردار ایک بار پھر عالمی سطح پر زیر ِ بحث آتا ہے: کیا پاکستان واقعی امت ِ مسلمہ کے احیا کی آخری امید ہے؟ یہ سوال محض جذباتی نہیں بلکہ گہرے تاریخی، فکری اور سیاسی تناظر کا تقاضا کرتا ہے۔ برصغیر میں مسلمانوں نے جب یہ محسوس کیا کہ متحدہ ہندوستان میں ان کی تہذیبی، دینی اور سیاسی شناخت محفوظ نہیں رہ سکے گی تو تحریک ِ پاکستان نے جنم لیا۔ علامہ محمد اقبال کا تصورِ پاکستان محض ایک جغرافیائی ریاست نہیں تھا بلکہ ایک فکری و روحانی تجربہ تھا، جہاں اسلام کو محض عبادات تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے ایک مکمل ضابطہ ٔ حیات کے طور پر نافذ کرنے کا عملی موقع فراہم ہو۔ قائداعظم محمد علی جناح نے بھی بارہا واضح کیا کہ پاکستان کا قیام کسی نسلی یا لسانی بنیاد پر نہیں بلکہ اسلامی اصولِ عدل، مساوات اور قانون کی بالادستی کے لیے ہے۔

قیامِ پاکستان کے بعد امت ِ مسلمہ کی نظریں اس نئی اسلامی ریاست پر جم گئیں۔ یہ پہلا موقع تھا کہ بیسویں صدی میں ایک جدید قومی ریاست اسلام کے نام پر وجود میں آئی۔ مگر بدقسمتی سے، آزادی کے فوراً بعد داخلی سیاسی کشمکش، ادارہ جاتی کمزوری، قیادت کا فقدان اور نوآبادیاتی ورثے نے اس خواب کو عملی تعبیر میں ڈھلنے سے روک دیا۔ اس کے باوجود، پاکستان کی جغرافیائی اہمیت، ایٹمی طاقت ہونا، آبادی کا بڑا مسلم ہونا اور نظریاتی اساس آج بھی اسے مسلم دنیا میں ایک منفرد مقام دیتی ہے۔ عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو امت ِ مسلمہ اس وقت شدید فکری و سیاسی بحران سے دوچار ہے۔ مشرقِ وسطیٰ خانہ جنگیوں کی لپیٹ میں ہے، فلسطین مسلسل مظالم کا شکار ہے، مسلم دنیا معاشی انحصار اور فکری غلامی میں جکڑی ہوئی ہے، جبکہ عالمی طاقتیں مسلم ممالک کو محض وسائل کی منڈی یا اسٹرٹیجک مہرے کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔ ایسے ماحول میں ایک ایسی ریاست کی ضرورت شدت سے محسوس ہوتی ہے جو نہ صرف اپنے اندر استحکام پیدا کرے بلکہ عالم ِ اسلام کو فکری، اخلاقی اور سیاسی رہنمائی بھی فراہم کر سکے۔ یہاں پاکستان کی ذمے داری دوچند ہو جاتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس ذمے داری کے لیے تیار ہیں؟ اگر پاکستان واقعی امت ِ مسلمہ کے احیا کی امید بننا چاہتا ہے تو اسے سب سے پہلے اپنے اندر فکری احیا پیدا کرنا ہوگا۔ محض نعروں، تقاریر اور جذباتی بیانات سے کوئی قوم زندہ نہیں ہوتی۔ اقبال نے جس خودی، خود اعتمادی اور فکری بیداری کی بات کی تھی، وہ آج ہمارے تعلیمی نظام، سیاسی بیانیے اور سماجی رویّوں میں نظر نہیں آتی۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے اسلام کو رسم و روایت تک محدود کر دیا ہے، جبکہ اس کے انقلابی، عدل پسند اور علم دوست پہلو کو پس ِ پشت ڈال دیا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی امت نے علم، اخلاق اور عدل کو اپنا شعار بنایا، دنیا نے اس کی قیادت تسلیم کی۔ آج پاکستان کو اسی اصول پر اپنے نظامِ تعلیم، معیشت اور سیاست کو استوار کرنا ہوگا۔ ایک مضبوط معیشت کے بغیر کوئی نظریاتی کردار ادا نہیں کیا جا سکتا، اور ایک منصفانہ نظامِ عدل کے بغیر کوئی ریاست اخلاقی برتری حاصل نہیں کر سکتی۔ بدعنوانی، اقربا پروری اور طبقاتی تفریق وہ زہر ہیں جو کسی بھی قومی مشن کو ناکام بنا دیتے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کو جذباتی ردِعمل کے بجائے دانشمندانہ حکمت ِ عملی اختیار کرنا ہوگی۔ مسلم دنیا کو متحد کرنے کا خواب اسی وقت حقیقت بن سکتا ہے جب پاکستان خود سیاسی استحکام، معاشی خود کفالت اور فکری وضاحت کا نمونہ بنے۔ محض یہ کہنا کہ ہم اسلامی دنیا کے رہنما ہیں، کافی نہیں؛ رہنمائی کردار سے ثابت ہوتی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کے پاس بے پناہ انسانی وسائل موجود ہیں۔ نوجوان آبادی، اگر درست سمت میں رہنمائی حاصل کرے، تو یہی طبقہ فکری و سائنسی انقلاب لا سکتا ہے۔ مگر اس کے لیے ریاست کو محض روزگار فراہم کرنے والا ادارہ نہیں بلکہ فکری رہنما بننا ہوگا۔ میڈیا، نصاب اور قومی بیانیے کو وقتی مفادات کے بجائے طویل المدت فکری اہداف سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان کو امت ِ مسلمہ کے احیا کی ’’آخری امید‘‘ کہنا تبھی درست ہوگا جب ہم خود اس امید پر پورا اتریں۔ تاریخ کسی قوم کو محض امکانات کی بنیاد پر عظیم قرار نہیں دیتی، بلکہ قربانی، کردار اور مستقل جدوجہد ہی اقوام کو زندہ رکھتی ہے۔ اگر پاکستان اپنے قیام کے اصل مقصد، یعنی اسلامی عدل، فکری آزادی اور انسانی وقار کی بحالی کو عملی طور پر اختیار کر لے، تو یقینا یہ ریاست نہ صرف اپنے عوام بلکہ پوری امت ِ مسلمہ کے لیے امید کی کرن بن سکتی ہے۔ بصورتِ دیگر، یہ سوال صرف ایک جذباتی نعرہ بن کر رہ جائے گا، اور تاریخ ایک اور ضائع شدہ موقع کے طور پر ہمیں یاد رکھے گی۔

ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مسلمہ کے احیا کی کو محض کے لیے فکری ا

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف