Jasarat News:
2026-06-03@03:58:40 GMT

پاکستان: کیا یہ امت ِ مسلمہ کے احیا کی آخری امید ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

امت ِ مسلمہ کی تاریخ عروج و زوال کی داستانوں سے بھری ہوئی ہے۔ کبھی بغداد علم و حکمت کا مرکز تھا، قرطبہ تہذیب و تمدن کی علامت، قاہرہ فکر و فقہ کا گہوارہ اور دہلی اسلامی اقتدار و ثقافت کا مضبوط ستون۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ داخلی انتشار، فکری جمود، اخلاقی زوال اور بیرونی سازشوں نے اس عظیم امت کو اس مقام پر لا کھڑا کیا جہاں آج سوال صرف یہ نہیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ آگے بڑھنے کی کوئی راہ باقی ہے یا نہیں۔ ایسے میں پاکستان کا تصور، وجود اور کردار ایک بار پھر عالمی سطح پر زیر ِ بحث آتا ہے: کیا پاکستان واقعی امت ِ مسلمہ کے احیا کی آخری امید ہے؟ یہ سوال محض جذباتی نہیں بلکہ گہرے تاریخی، فکری اور سیاسی تناظر کا تقاضا کرتا ہے۔ برصغیر میں مسلمانوں نے جب یہ محسوس کیا کہ متحدہ ہندوستان میں ان کی تہذیبی، دینی اور سیاسی شناخت محفوظ نہیں رہ سکے گی تو تحریک ِ پاکستان نے جنم لیا۔ علامہ محمد اقبال کا تصورِ پاکستان محض ایک جغرافیائی ریاست نہیں تھا بلکہ ایک فکری و روحانی تجربہ تھا، جہاں اسلام کو محض عبادات تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے ایک مکمل ضابطہ ٔ حیات کے طور پر نافذ کرنے کا عملی موقع فراہم ہو۔ قائداعظم محمد علی جناح نے بھی بارہا واضح کیا کہ پاکستان کا قیام کسی نسلی یا لسانی بنیاد پر نہیں بلکہ اسلامی اصولِ عدل، مساوات اور قانون کی بالادستی کے لیے ہے۔

قیامِ پاکستان کے بعد امت ِ مسلمہ کی نظریں اس نئی اسلامی ریاست پر جم گئیں۔ یہ پہلا موقع تھا کہ بیسویں صدی میں ایک جدید قومی ریاست اسلام کے نام پر وجود میں آئی۔ مگر بدقسمتی سے، آزادی کے فوراً بعد داخلی سیاسی کشمکش، ادارہ جاتی کمزوری، قیادت کا فقدان اور نوآبادیاتی ورثے نے اس خواب کو عملی تعبیر میں ڈھلنے سے روک دیا۔ اس کے باوجود، پاکستان کی جغرافیائی اہمیت، ایٹمی طاقت ہونا، آبادی کا بڑا مسلم ہونا اور نظریاتی اساس آج بھی اسے مسلم دنیا میں ایک منفرد مقام دیتی ہے۔ عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو امت ِ مسلمہ اس وقت شدید فکری و سیاسی بحران سے دوچار ہے۔ مشرقِ وسطیٰ خانہ جنگیوں کی لپیٹ میں ہے، فلسطین مسلسل مظالم کا شکار ہے، مسلم دنیا معاشی انحصار اور فکری غلامی میں جکڑی ہوئی ہے، جبکہ عالمی طاقتیں مسلم ممالک کو محض وسائل کی منڈی یا اسٹرٹیجک مہرے کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔ ایسے ماحول میں ایک ایسی ریاست کی ضرورت شدت سے محسوس ہوتی ہے جو نہ صرف اپنے اندر استحکام پیدا کرے بلکہ عالم ِ اسلام کو فکری، اخلاقی اور سیاسی رہنمائی بھی فراہم کر سکے۔ یہاں پاکستان کی ذمے داری دوچند ہو جاتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس ذمے داری کے لیے تیار ہیں؟ اگر پاکستان واقعی امت ِ مسلمہ کے احیا کی امید بننا چاہتا ہے تو اسے سب سے پہلے اپنے اندر فکری احیا پیدا کرنا ہوگا۔ محض نعروں، تقاریر اور جذباتی بیانات سے کوئی قوم زندہ نہیں ہوتی۔ اقبال نے جس خودی، خود اعتمادی اور فکری بیداری کی بات کی تھی، وہ آج ہمارے تعلیمی نظام، سیاسی بیانیے اور سماجی رویّوں میں نظر نہیں آتی۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے اسلام کو رسم و روایت تک محدود کر دیا ہے، جبکہ اس کے انقلابی، عدل پسند اور علم دوست پہلو کو پس ِ پشت ڈال دیا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی امت نے علم، اخلاق اور عدل کو اپنا شعار بنایا، دنیا نے اس کی قیادت تسلیم کی۔ آج پاکستان کو اسی اصول پر اپنے نظامِ تعلیم، معیشت اور سیاست کو استوار کرنا ہوگا۔ ایک مضبوط معیشت کے بغیر کوئی نظریاتی کردار ادا نہیں کیا جا سکتا، اور ایک منصفانہ نظامِ عدل کے بغیر کوئی ریاست اخلاقی برتری حاصل نہیں کر سکتی۔ بدعنوانی، اقربا پروری اور طبقاتی تفریق وہ زہر ہیں جو کسی بھی قومی مشن کو ناکام بنا دیتے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کو جذباتی ردِعمل کے بجائے دانشمندانہ حکمت ِ عملی اختیار کرنا ہوگی۔ مسلم دنیا کو متحد کرنے کا خواب اسی وقت حقیقت بن سکتا ہے جب پاکستان خود سیاسی استحکام، معاشی خود کفالت اور فکری وضاحت کا نمونہ بنے۔ محض یہ کہنا کہ ہم اسلامی دنیا کے رہنما ہیں، کافی نہیں؛ رہنمائی کردار سے ثابت ہوتی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کے پاس بے پناہ انسانی وسائل موجود ہیں۔ نوجوان آبادی، اگر درست سمت میں رہنمائی حاصل کرے، تو یہی طبقہ فکری و سائنسی انقلاب لا سکتا ہے۔ مگر اس کے لیے ریاست کو محض روزگار فراہم کرنے والا ادارہ نہیں بلکہ فکری رہنما بننا ہوگا۔ میڈیا، نصاب اور قومی بیانیے کو وقتی مفادات کے بجائے طویل المدت فکری اہداف سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان کو امت ِ مسلمہ کے احیا کی ’’آخری امید‘‘ کہنا تبھی درست ہوگا جب ہم خود اس امید پر پورا اتریں۔ تاریخ کسی قوم کو محض امکانات کی بنیاد پر عظیم قرار نہیں دیتی، بلکہ قربانی، کردار اور مستقل جدوجہد ہی اقوام کو زندہ رکھتی ہے۔ اگر پاکستان اپنے قیام کے اصل مقصد، یعنی اسلامی عدل، فکری آزادی اور انسانی وقار کی بحالی کو عملی طور پر اختیار کر لے، تو یقینا یہ ریاست نہ صرف اپنے عوام بلکہ پوری امت ِ مسلمہ کے لیے امید کی کرن بن سکتی ہے۔ بصورتِ دیگر، یہ سوال صرف ایک جذباتی نعرہ بن کر رہ جائے گا، اور تاریخ ایک اور ضائع شدہ موقع کے طور پر ہمیں یاد رکھے گی۔

ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مسلمہ کے احیا کی کو محض کے لیے فکری ا

پڑھیں:

دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو 41 رنز سے شکست دے دی

لاہور(نیوز ڈیسک)تین ایک روزہ میچوں کی سیریز کے دوسرے میچ میں آسٹریلیا نے پاکستان کو 42 رنز سے شکست دے کر سیریز 1-1 سے برابر کردی۔

لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں پاکستان کے کپتان شاہین آفریدی نے ٹاس جیت کر آسٹریلیا کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔

مہمان ٹیم نے پہلےکھیلتے ہوئے مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹ پر 231 رنز اسکور کیے۔

آسٹریلیا کی جانب سے کیمرون گرین 53، جوش انگلس 51 اور میٹ رنشا 43 رنز بنا کر نمایاں رہے۔

پاکستان کی جانب سے کپتان شاہین آفریدی نے 3 جب کہ حارث رؤف ، عرفات منہاس اور ابرار احمد نے 2،2 وکٹیں حاصل کیں۔

232 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی پوری ٹیم 44 اوور میں 190 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔

پاکستان کی جانب سے شاداب خان نے ناٹ آؤٹ 71 رنز کی اننگ کھیلی۔ ان کے علاوہ غازی غوری نے 37 اور عرفات منہاس نے 33 رنز بنائے۔

آسٹریلیا کی جانب سے ناتھن ایلس نے 4 اور میتھیو شارٹ نے 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

خیال رہےکہ پہلے ایک روزہ میچ میں پاکستان نے آسٹریلیا کو 5 وکٹ سے شکست دی تھی، تین ایک روزہ میچوں کی سیریز میں پاکستان کو ایک صفر کی برتری حاصل ہے۔

مزید پڑھیں۔سونے کی قیمت میں پھر ہوشربا اضافہ

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو 41 رنز سے شکست دے دی
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف