ایران: خلائی میدان میں ایک اور تاریخی قدم، مقامی ساختہ 3 سیٹلائٹ خلا میں بھیج دیے
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
ایران نے خلائی میدان میں ایک اور سنگ میل عبور کرتے ہوئے 3 سیٹلائٹس خلا میں بھیج دیے۔
عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق ایران نے اتوار کو روسی سویوز راکٹ کے ذریعے مقامی طور پر تیار کردہ اپنے 3 نئے سیٹلائٹس کامیابی سے خلا میں روانہ کیے۔
رپورٹ میں سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق پایا، ظفر-2 اور کوثر 1.5 نامی یہ سیٹلائٹس روس کے وستوچنی کاسموڈروم سے لانچ کیے گئے، جو اس وقت زمین سے تقریباً 500 کلومیٹر کی بلندی پر مدار میں گردش کر رہے ہیں۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ مشن شہری اور تحقیقی مقاصد کے لیے انجام دیا گیا ہے۔
باخبر ذرائع کے مطابق یہ سیٹلائٹس ایران کے نجی شعبے اور تعلیمی اداروں نے ڈیزائن کیے ہیں، جن کا مقصد ماحولیاتی نگرانی اور قدرتی وسائل کے بہتر انتظام میں مدد فراہم کرنا ہے۔
تقریباً 150 کلوگرام وزن کے ساتھ پایا اب تک ایران کا سب سے جدید اور بھاری امیجنگ سیٹلائٹ ہے۔
اس میں مصنوعی ذہانت کی جدید صلاحیتیں شامل کی گئی ہیں، جو تصاویر کے معیار کو بہتر بناتی ہیں۔ پایا کو آبی وسائل کی نگرانی، نقشہ سازی اور ماحولیاتی تجزیے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
دوسری جانب ظفر2 یونیورسٹی کے محققین نے تیار کیا ہے جبکہ کوثر 1.
ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق حساس آلات کی محفوظ ترسیل کے لیے سویوز راکٹ کا انتخاب کیا گیا، جو اپنی قابلِ اعتماد کارکردگی کے لیے جانا جاتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایران گزشتہ 2 برسوں میں 10 سیٹلائٹس خلا میں بھیج چکا ہے، جن میں جولائی میں اسی روسی لانچ سائٹ سے کی گئی ایک لانچ بھی شامل ہے۔
حکام کے مطابق یہ سیٹلائٹس زرعی منصوبہ بندی، سیلاب اور زلزلوں کے دوران امدادی کارروائیوں، اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی نگرانی جیسے شہری مقاصد کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کے مطابق خلا میں کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کے بدلتے پینترے
امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔
دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔
ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔