روس نے صدرپیوٹن کی رہائش گاہ پر حملے کا الزام یوکرین پر عائد کردیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
ماسکو:روس نے الزام عائد کیا ہے کہ یوکرین نے نووگورود ریجن میں صدر ولادیمیر پیوٹن کی سرکاری رہائش گاہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف کے مطابق، 28 اور 29 دسمبر کے دوران یوکرین نے 91 لانگ رینج ڈرونز فائر کیے، جنہیں روسی فضائی دفاع نے مار گرایا۔
لاؤروف نے اس حملے کو ریاستی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ یوکرین کے ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات کا جواب دیا جائے گا، حملہ ممکنہ امن معاہدے کی بات چیت کے دوران کیا گیا، تاہم روس امن مذاکرات سے باہر نہیں نکلے گا اور اس بات کا ازسر نو جائزہ لے رہا ہے۔
دوسری جانب یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے روس کے الزامات کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دعوے امن بات چیت کو خراب کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں اور روس اپنی کارروائیوں کو جواز فراہم کرنے کے لیے یوکرین پر الزامات عائد کر رہا ہے، انہوں نے امریکا سے کہا کہ روس کی دھمکیوں پر مؤثر ردعمل دیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔