وزیر اعظم شہباز شریف کی روسی صدر کی رہائشگاہ کو نشانہ بنانے کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
ویب ڈیسک: وزیر اعظم شہباز شریف نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی رہائش گاہ کو نشانہ بنائے جانے کی شدید مذمت کی ہے۔
شہباز شریف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں کہا قیام امن کے لیے جاری کوششوں میں اس نوعیت کا گھناؤنا فعل امن، سلامتی اور استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے، پاکستان روسی فیڈریشن کے صدر، حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یک جہتی کا اظہار کرتا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا ہم ہر قسم کے تشدد اور ایسے تمام اقدامات کو مسترد کرنے کے پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہیں، ایسے اقدامات کا مقصد سلامتی کو کمزور کرنا اور امن کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔
ڈورپھرنےسےشدیدزخمی 2 سالہ زینب کی جناح ہسپتال میں سرجری
واضح رہے کہ روس کے نووگراڈ ریجن میں صدر پیوٹن کی رہائش گاہ پر حملہ ہوا ہے، صدر ٹرمپ نے کہا روسی صدر پیوٹن نے آج صبح مجھے بتایا کہ اُن کی رہائش گاہ پر یوکرین نے حملہ کیا ہے، اور یہ بالکل بھی ٹھیک نہیں ہے، وہ اس پر شدید غصے میں تھے۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروو نے یوکرین پر حملے کا الزام لگاتے ہوئے کہا یہ حملہ ریاستی دہشت گردی ہے، یوکرین نے 28 اور 29 دسمبر کے درمیان رہائش گاہ پر 91 لانگ رینج ڈرونز فائر کیے، تاہم تمام ڈرونز مار گرائے گئے، یوکرین کے ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات کا جواب ضرور دیا جائے گا۔
انٹرمیڈیٹ پارٹ ٹوسکینڈاینول،ری چیکنگ کیلئے آن لائن درخواستوں کی وصولی شروع
دوسری طرف یوکرین نے روسی صدر پیوٹن کی رہائش گاہ پر ڈرون حملوں کے الزامات کی تردید کر دی ہے، صدر زیلنسکی نے کہا ماسکو اس طرح کے الزامات کے ذریعے امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے،روس ماضی میں کیف میں سرکاری عمارتوں کو نشانہ بناتا رہا ہے،عالمی برادری کو اس پر خاموش نہیں رہنا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کی رہائش گاہ رہائش گاہ پر
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔