Islam Times:
2026-07-24@01:48:48 GMT

جماعت اسلامی نے تیراہ میں نئے ملٹری آپریشن کی مخالفت کردی

اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT

جماعت اسلامی نے تیراہ میں نئے ملٹری آپریشن کی مخالفت کردی

عبدالواسع نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2007ء سے جاری پے درپے آپریشنوں کے نتائج قوم کے سامنے لائیں جائیں، ہر آپریشن کے بعد یہی کہا جاتا رہا کہ مٹھی بھردہشت گرد عناصر کا خاتمہ کردیا گیا اور ان کی کمر توڑ دی گئی ہے لیکن کچھ عرصہ بعد وہی دہشت گرد ٹوٹی ہوئی کمرکے ساتھ پھر سے صحت مند ہو کر کاروائی کرتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی نے تیراہ میں نئے ملٹری آپریشن کی مخالفت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ 2007ء سے جاری پے درپے آپریشنوں کے نتائج قوم کے سامنے لائیں جائیں، ہر آپریشن کے بعد یہی کہا جاتا رہا کہ مٹھی بھردہشت گرد عناصر کا خاتمہ کردیا گیا اور ان کی کمر توڑ دی گئی ہے لیکن کچھ عرصہ بعد وہی دہشت گرد ٹوٹی ہوئی کمرکے ساتھ پھر سے صحت مند ہو کر کاروائی کرتے ہیں۔ صوبائی حکومت فرد واحد کی رہائی کے بجائے لاکھوں متاثرین کی حالت زار پر توجہ دے۔ صوبے میں ملٹری آپریشنوں کی آڑ میں لاکھوں گھرانوں کو شدید سردی کے موسم میں بے گھر کرنے کے خلاف تمام سیاسی جماعتیں صوبائی حکومت کی اے پی سی میں ایک پیج پر تھی صوبائی حکومت کی اے پی سی کے اعلامیہ میں طے پایا تھا کہ تمام جماعتوں پر مشتمل امن جرگہ بنایا جائے گا جو اسمبلی کے طے شدہ رولز کے مطابق قیام امن کے لئے عملی جدوجہد کے ساتھ ساتھ صوبائی اسمبلی میں امن کے قیام سے متعلق پیش کی گئی قراردادوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات کرے گا لیکن اس پر اب تک عمل درآمد نہیں ہوا ہے۔

ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی خیبر پختونخوا وسطی کے امیر عبدالواسع نے سابق رکن قومی اسمبلی اور جماعت اسلامی کے صوبائی جنرل سیکرٹری صابر حسین اعوان، جماعت اسلامی ضلع خیبر کے امیر شاہ فیصل آفریدی، تحصیل باڑہ کے سابق امیر خان ولی آفریدی، سلطان اکبر آفریدی اور جماعت اسلامی ضلع خیبر کے دیگر ذمہ داران کے ہمراہ پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ شدید سردی کے اس موسم میں تیراہ کے ڈھائی لاکھ سے زائد مکینوں کو بے گھر کرنے سے قبل گزشتہ ادوار میں ضلع خیبر اور وادی تیراہ میں کئے گئے ملٹری آپریشنوں کا جائزہ لیا جائے کہ ان آپریشنوں نے دہشت گردی کے خاتمے میں کتنا کردار ادا کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ قبل ازیں آپریشن صراط مستقیم، آپریشن درغلم، آپریشن بیا درغلم، آپریشن خوخ بہ دے شم  2007/8/9ء متعدد آپریشن ہوئے ہیں۔ ماضی میں تحصیل باڑہ اور تیراہ ویلی میں آپریشنز میں لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے ان کے گھر، مکان، املاک، بازار، کاروبار سمیت سرکاری اور نجی انفاسٹرکچر تباہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ لوگ کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے، ان آپریشنز میں ستم ظریفی یہ تھی کے چند گھنٹوں کے نوٹس پر علاقے خالی کرنے کے احکامات دئیے گئے۔ لوگ صرف زیب تن کپڑوں کے سوا کوئی بھی سامان اپنے ساتھ نہیں اٹھا سکے۔ ان سالوں میں لوگوں نے بہت اذیت بھری زندگی گزاری، حکومت کی طرف سے انھیں دی جانے والی امداد نہ ہونے کے برابر تھی۔ لوگوں نے اس امید کے ساتھ یہ مشکلات برداشت کیں کہ اس سے علاقے میں امن آئیگا اور دہشت گردی کا خاتمہ ہوجائیگا لیکن افسوس آج بھی وہی حالات ہیں جو 15 اور 18 برس قبل تھے۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ملٹری آپریشن جماعت اسلامی کے ساتھ کہا کہ

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی