جوہری تعمیرات جاری رہیں تو قیامت برپا کر دینگے، امریکی صدر کی ایران کو ایک بار پھر دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
فلوریڈا میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اطلاعات ہیں کہ ایران دوبارہ جوہری تنصیبات تعمیر کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اگر ایسا ہوا تو امریکا فوری حملوں کی حمایت کرے گا اور قیامت برپا کر دیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران نے جوہری تعمیرات جاری رکھیں تو اس پر قیامت برپا کر دیں گے۔ فلوریڈا میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اطلاعات ہیں کہ ایران دوبارہ جوہری تنصیبات تعمیر کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اگر ایسا ہوا تو امریکا فوری حملوں کی حمایت کرے گا اور قیامت برپا کر دیں گے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران نے اپنا جوہری پروگرام دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کی تو ہمیں اسے تباہ کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق ایران کو کسی معاہدے پر آ جانا چاہیئے تھا، تاہم بعض اوقات ایسا نہیں ہو پاتا۔ اسرائیلی وزیراعظم سے ملاقات کے حوالے سے امریکی صدر نے بتایا کہ نیتن یاہو کے ساتھ پانچ اہم امور پر تفصیلی بات چیت ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ غزہ منصوبے کا دوسرا مرحلہ جلد شروع ہونے کی امید ہے اور غزہ کی تعمیر نو کا عمل بھی آئندہ دنوں میں شروع ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اسرائیل کا ساتھ دیتا رہے گا۔ ایک سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی رہائش گاہ پر یوکرینی حملے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ خبر سن کر انہیں شدید دکھ اور غصہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین میں امن کے قیام کے لیے اب بھی کئی پیچیدہ مسائل درپیش ہیں۔ اس سے قبل یوکرین کے صدر زیلنسکی نے کہا ہے کہ یوکرین امریکا سے 30 سے 50 سال تک کے لیے طویل المدتی سکیورٹی ضمانتیں چاہتا ہے، جس پر امریکی صدر نے کہا کہ وہ اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: قیامت برپا کر امریکی صدر نے کہا کہ
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔