مضمون نگار کے مطابق ایران مقامی طور پر تیار کردہ بنکر بسٹر بیلسٹک میزائل تعینات کرنے کی تیاری کر رہا ہے جو ان پناہ گاہوں کو توڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جن پر اسرائیلیوں نے اتنے یقین سے بھروسہ کیا ہوا ہے۔ ان میزائل کو خاص طور پر مضبوط بنکرز کی حفاظتی دیواروں کو تباہ کرنے کیلئے خاص ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ معروف نیوز ویب سائٹ "مڈل ایسٹ مانیٹر" (MEMO) کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران بنکر شکن بیلسٹک میزائل تیار کر رہا ہے جو خطے میں طاقت کے توازن کو بدل کر رکھ دے گا۔ کنگز کالج لندن کے انسٹی ٹیوٹ آف مڈل ایسٹرن اسٹیڈیز میں ایسوسی ایٹ فیلو ڈاکٹر محمد آئی اسلم کا ایک مضمون جو مڈل ایسٹ مانیٹر میں چھپا ہے، کے مطابق زیر زمین محفوظ پناہ گاہیں اسرائیل کا شروع سے لازمی اسٹریٹجک منصوبہ رہا ہے۔ یہ پناہ گاہیں زیر زمین مضبوط کنکریٹ سے بنی ہوئی ہیں جو کہ اسرائیلی زندگی کا لازمی حصہ ہے تاکہ میزائلوں اور راکٹوں سے محفوظ رہ سکیں۔ مضمون نگار کے مطابق یہ منصوبہ یہودی آبادی کو نہ صرف تحفظ دینے کیلئے ہی نہیں بلکہ اسرائیلی کی جنگی حکمت عملی کا حصہ بھی ہے جو انہیں اپنے حریفوں پر پیشگی حملہ کرنے کی صلاحیت دیتا ہے اور کسی بھی جوابی کارروائی سے حفاظت بھی فراہم کرتا ہے۔ تاہم اسلامی جمہوریہ ایران جو مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کا سب سے طاقت ور حریف ہے، ایک غیر معمولی پیشرفت کی طرف گامزن ہے جو اسرائیل کے دیرینہ حساب کتاب کو الٹ کر رکھ دے گا۔

 مضمون نگار کے مطابق ایران مقامی طور پر تیار کردہ بنکر بسٹر بیلسٹک میزائل تعینات کرنے کی تیاری کر رہا ہے جو ان پناہ گاہوں کو توڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جن پر اسرائیلیوں نے اتنے یقین سے بھروسہ کیا ہوا ہے۔ ان میزائل کو خاص طور پر مضبوط بنکرز کی حفاظتی دیواروں کو تباہ کرنے کیلئے خاص ڈیزائن کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک بار تعینات ہونے کے بعد، وہ اسرائیل کی زیر زمین پناہ گاہوں کو ایسے حملوں کے لیے کمزور بنا دیں گے جن کا مقابلہ کرنے کے لیے وہ کبھی ڈیزائن نہیں کی گئی تھیں، اس طرح اسرائیل کے ایک سب سے اہم فوجی فائدہ کو بے اثر کر دیں گے اور پہلی بار اس کی آبادی کو براہ راست خطرات لاحق کریں گے، یہاں تک کہ انتہائی محفوظ جگہوں پر بھی۔ ایرانی پالیسی سازوں نے حساب لگایا ہے کہ کسی بھی ملک کیخلاف اسرائیل کی وحشیانہ بمباری صرف جوابی کارروائی کے ایک خوفناک توازن سے ہی ختم ہو گی، یہ توازن اس خیال کو مٹا دے گا کہ اسرائیل ایران کو ایک اور لبنان یا شام بنا سکتا ہے جس پر وہ اپنی مرضی سے بمباری کر سکتا ہے۔

مضمون نگار کے مطابق اسرائیل کا فوجی ڈاکٹرائن ہمیشہ سے ایک نازک توازن پر قائم رہا ہے جیسا کہ حال ہی میں 2024ء اور 2025ء میں اسرائیل نے جوابی ایرانی میزائل حملوں سے ہونے والی بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے کی تباہی کے تین ادوار سے دیکھے ہیں، اس حملے نے (اسرائیل میں) بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا جس کے نتیجے میں درجنوں اسرائیلی ہلاک اور زخمی ہوئے، اسرائیل کے اندر نظام زندگی بری طرح مفلوج ہو گیا یہاں تک کہ اسرائیلیوں کو بیرون ملک بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ اس کے باؤجود اسرائیل اب بھی اس یقین پر سختی سے کام کرتا ہے کہ اس کی آبادی (اس کے دشمن کے برعکس) حملے کی صورت میں بڑے پیمانے پر محفوظ طریقے سے پناہ لے سکتی ہے۔ لیکن اگر ایران اس پناہ گاہ کو توڑنے کے قابل ہو جاتا ہے، تو اسرائیل کو جلد ہی اپنی فوجی حکمت عملی پر دوبارہ غور کرنا پڑے گا اور پیشگی حملوں سے ہٹ کر زیادہ دفاعی پوزیشنز کی طرف جانا پڑے گا کیونکہ یہ صورتحال ایک وجودی چیلنج پیش کرے گی۔

یہ بدلاؤ فوجی اور سیاسی طور پر اسرائیل کے حساب کتاب کو بدل کر رکھ دے گا۔ یہ تبدیلی آنے والی دہائیوں تک مشرق وسطیٰ میں عسکری نظریے کا تعین کرے گی۔ رپورٹ کے مطابق مغرب کے جاسوس سیٹلائٹس اور انٹیلی جنس ایجنسیاں ایران کی پیشرفت پر نظر رکھنے کیلئے انتھک محنت کر رہی ہیں جبکہ اسرائیل کی موساد اور ملٹری انٹیلی جنس تہران کے میزائل پروگرام کی پیش رفت کے بارے میں معلومات اکٹھی کر رہی ہے۔ مضمون نگار کے مطابق ابھی مستقبل غیر یقینی ہے لیکن ایک بات واضح ہے کہ اگر ایران اپنے بنکر بسٹر میزائلوں کو مکمل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اسرائیل کی آبادی کی مجموعی حفاظت اور اس کا فوجی نظریہ کبھی پہلے جیسا نہیں رہے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

پڑھیں:

ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔

https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247

قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان