ایران کا بنکر شکن بیلسٹک میزائل خطے میں طاقت کا توازن بدل کر رکھ دے گا، مڈل ایسٹ مانیٹر
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
مضمون نگار کے مطابق ایران مقامی طور پر تیار کردہ بنکر بسٹر بیلسٹک میزائل تعینات کرنے کی تیاری کر رہا ہے جو ان پناہ گاہوں کو توڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جن پر اسرائیلیوں نے اتنے یقین سے بھروسہ کیا ہوا ہے۔ ان میزائل کو خاص طور پر مضبوط بنکرز کی حفاظتی دیواروں کو تباہ کرنے کیلئے خاص ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ معروف نیوز ویب سائٹ "مڈل ایسٹ مانیٹر" (MEMO) کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران بنکر شکن بیلسٹک میزائل تیار کر رہا ہے جو خطے میں طاقت کے توازن کو بدل کر رکھ دے گا۔ کنگز کالج لندن کے انسٹی ٹیوٹ آف مڈل ایسٹرن اسٹیڈیز میں ایسوسی ایٹ فیلو ڈاکٹر محمد آئی اسلم کا ایک مضمون جو مڈل ایسٹ مانیٹر میں چھپا ہے، کے مطابق زیر زمین محفوظ پناہ گاہیں اسرائیل کا شروع سے لازمی اسٹریٹجک منصوبہ رہا ہے۔ یہ پناہ گاہیں زیر زمین مضبوط کنکریٹ سے بنی ہوئی ہیں جو کہ اسرائیلی زندگی کا لازمی حصہ ہے تاکہ میزائلوں اور راکٹوں سے محفوظ رہ سکیں۔ مضمون نگار کے مطابق یہ منصوبہ یہودی آبادی کو نہ صرف تحفظ دینے کیلئے ہی نہیں بلکہ اسرائیلی کی جنگی حکمت عملی کا حصہ بھی ہے جو انہیں اپنے حریفوں پر پیشگی حملہ کرنے کی صلاحیت دیتا ہے اور کسی بھی جوابی کارروائی سے حفاظت بھی فراہم کرتا ہے۔ تاہم اسلامی جمہوریہ ایران جو مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کا سب سے طاقت ور حریف ہے، ایک غیر معمولی پیشرفت کی طرف گامزن ہے جو اسرائیل کے دیرینہ حساب کتاب کو الٹ کر رکھ دے گا۔
مضمون نگار کے مطابق ایران مقامی طور پر تیار کردہ بنکر بسٹر بیلسٹک میزائل تعینات کرنے کی تیاری کر رہا ہے جو ان پناہ گاہوں کو توڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جن پر اسرائیلیوں نے اتنے یقین سے بھروسہ کیا ہوا ہے۔ ان میزائل کو خاص طور پر مضبوط بنکرز کی حفاظتی دیواروں کو تباہ کرنے کیلئے خاص ڈیزائن کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک بار تعینات ہونے کے بعد، وہ اسرائیل کی زیر زمین پناہ گاہوں کو ایسے حملوں کے لیے کمزور بنا دیں گے جن کا مقابلہ کرنے کے لیے وہ کبھی ڈیزائن نہیں کی گئی تھیں، اس طرح اسرائیل کے ایک سب سے اہم فوجی فائدہ کو بے اثر کر دیں گے اور پہلی بار اس کی آبادی کو براہ راست خطرات لاحق کریں گے، یہاں تک کہ انتہائی محفوظ جگہوں پر بھی۔ ایرانی پالیسی سازوں نے حساب لگایا ہے کہ کسی بھی ملک کیخلاف اسرائیل کی وحشیانہ بمباری صرف جوابی کارروائی کے ایک خوفناک توازن سے ہی ختم ہو گی، یہ توازن اس خیال کو مٹا دے گا کہ اسرائیل ایران کو ایک اور لبنان یا شام بنا سکتا ہے جس پر وہ اپنی مرضی سے بمباری کر سکتا ہے۔
مضمون نگار کے مطابق اسرائیل کا فوجی ڈاکٹرائن ہمیشہ سے ایک نازک توازن پر قائم رہا ہے جیسا کہ حال ہی میں 2024ء اور 2025ء میں اسرائیل نے جوابی ایرانی میزائل حملوں سے ہونے والی بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے کی تباہی کے تین ادوار سے دیکھے ہیں، اس حملے نے (اسرائیل میں) بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا جس کے نتیجے میں درجنوں اسرائیلی ہلاک اور زخمی ہوئے، اسرائیل کے اندر نظام زندگی بری طرح مفلوج ہو گیا یہاں تک کہ اسرائیلیوں کو بیرون ملک بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ اس کے باؤجود اسرائیل اب بھی اس یقین پر سختی سے کام کرتا ہے کہ اس کی آبادی (اس کے دشمن کے برعکس) حملے کی صورت میں بڑے پیمانے پر محفوظ طریقے سے پناہ لے سکتی ہے۔ لیکن اگر ایران اس پناہ گاہ کو توڑنے کے قابل ہو جاتا ہے، تو اسرائیل کو جلد ہی اپنی فوجی حکمت عملی پر دوبارہ غور کرنا پڑے گا اور پیشگی حملوں سے ہٹ کر زیادہ دفاعی پوزیشنز کی طرف جانا پڑے گا کیونکہ یہ صورتحال ایک وجودی چیلنج پیش کرے گی۔
یہ بدلاؤ فوجی اور سیاسی طور پر اسرائیل کے حساب کتاب کو بدل کر رکھ دے گا۔ یہ تبدیلی آنے والی دہائیوں تک مشرق وسطیٰ میں عسکری نظریے کا تعین کرے گی۔ رپورٹ کے مطابق مغرب کے جاسوس سیٹلائٹس اور انٹیلی جنس ایجنسیاں ایران کی پیشرفت پر نظر رکھنے کیلئے انتھک محنت کر رہی ہیں جبکہ اسرائیل کی موساد اور ملٹری انٹیلی جنس تہران کے میزائل پروگرام کی پیش رفت کے بارے میں معلومات اکٹھی کر رہی ہے۔ مضمون نگار کے مطابق ابھی مستقبل غیر یقینی ہے لیکن ایک بات واضح ہے کہ اگر ایران اپنے بنکر بسٹر میزائلوں کو مکمل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اسرائیل کی آبادی کی مجموعی حفاظت اور اس کا فوجی نظریہ کبھی پہلے جیسا نہیں رہے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل تیرہویں رات بھی فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف ’بہت بڑے حملے‘ کا فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی جارحیت میں مزید اضافہ ہوا تو اس کی قیمت واشنگٹن کو پہلے سے کہیں زیادہ چکانا پڑے گی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق تازہ کارروائی 2 گھنٹے سے زائد جاری رہی، جس کے دوران ایران کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت، بالخصوص ساحلی نگرانی، فضائی دفاع اور فوجی انفراسٹرکچر کو مزید کمزور کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی پھر شدت اختیار کرگئی، کیا مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر ہے؟
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران نے ابھی تک ’کافی تکلیف نہیں دیکھی‘ اور وہ ایک بڑے پیمانے کے حملے کے بارے میں فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ امریکی صدر کے اس بیان نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے اور عالمی سطح پر خدشات میں اضافہ ہوا ہے کہ جنگ مزید وسیع ہو سکتی ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’بے معنی جارحیت‘ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے امریکا کو زیادہ بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
???? 13TH STRAIGHT NIGHT OF POUNDING IRAN.
U.S. forces just completed another round of strikes on Iranian military targets.
Command centers.
Drone storage.
Communication networks.
Coastal surveillance.
Maritime capabilities.
AMERICA KEEPS WINING ✌️???????????????? https://t.co/0y5aM7FeEr pic.twitter.com/0AWYpSnco6
— Xander Xand (@Xander24Xand) July 24, 2026
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران تہران، خنداب، خرم آباد، کنارک اور جاسک سمیت مختلف شہروں میں دھماکوں، میزائل حملوں اور فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بعض علاقوں میں فضائی دفاعی نظام نے آنے والے اہداف کو روکنے کی کوشش کی، تاہم نقصانات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔
دوسری جانب برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر اس کے مفادات یا سرزمین کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو اس کی مسلح افواج دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ یہ بیان ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی اس وارننگ کے بعد سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکی بمبار طیارے برطانوی اڈوں سے ایران پر حملوں کے لیے استعمال ہوئے تو ان اڈوں کو بھی ممکنہ اہداف سمجھا جا سکتا ہے۔
???????? U.S. STRIKES IRAN FOR 13TH CONSECUTIVE NIGHT
The U.S. military has launched another round of strikes against Iran, marking the 13th consecutive night of attacks.
CENTCOM: “US forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET (2245 GMT)… pic.twitter.com/iDXtuU2CJE
— Mossad Commentary (@MOSSADil) July 24, 2026
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنگ کے پھیلنے سے عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے کے باعث خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ عالمی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں مزید عسکری کارروائیاں پورے خطے کو ایک بڑے بحران میں دھکیل سکتی ہیں۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا ایران خلیج صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ