کیا آپ کے گھر میں بھی بچے بیشتر وقت اسکرین کے سامنے گزارتے ہیں؟ آئیے اسے کنٹرول اور متوازن رکھنے کا طریقہ جانتے ہیں۔

آج کے دور میں اسمارٹ فون بچوں کی زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔ اس کے علاوہ یہ پڑھائی، تفریح اور رابطوں کا بھی اہم ترین ذریعہ ہے لیکن اسمارٹ فون کا غیر متوازن استعمال بچوں کی ذہنی، جسمانی اور سماجی نشوونما پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

ماہرین تعلیم و نفسیات کا کہنا  ہے کہ والدین کی ذمے داری ہے کہ وہ بچوں کے اسکرین ٹائم کو مؤثر اور متوازن طریقے سے منظم کریں تاکہ ٹیکنالوجی کا فائدہ زیادہ ہو اور نقصان نہ ہو۔

اس سلسلے میں سب سے پہلا اور بنیادی طریقہ یہ ہے کہ بچوں کے لیے واضح اصول مقرر کیے جائیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ یہ طے کریں کہ دن میں کتنے گھنٹے اسمارٹ فون استعمال ہو سکتا ہے اور کون سی سرگرمیوں کے لیے اسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بچوں کے لیے ایک شیڈول بنانا، جس میں پڑھائی، کھیل اور آرام کے اوقات بھی شامل ہوں، اسمارٹ فون کے استعمال کو محدود اور معقول بناتا ہے۔

دوسرا طریقہ والدین کے لیے مثال بننا ہے۔ بچے والدین کے رویے کو غور سے دیکھتے ہیں، اس لیے اگر والدین خود فون کا زیادہ استعمال کرتے ہیں تو بچے بھی اسی عادت کو اپنائیں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خاندان میں فون اور اسکرین کی صحت مند حدود قائم کرنا بچوں میں بھی وہی رویہ پیدا کرتا ہے۔

تیسرا طریقہ بچوں کے ساتھ متبادل سرگرمیوں کا تعارف ہے۔ کھیل، کتابیں، فنونِ لطیفہ اور بیرونی سرگرمیاں بچوں کی توجہ اسکرین سے ہٹا کر دیگر مثبت مشغلے پیدا کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ مشترکہ فیملی سرگرمیاں، جیسے بورڈ گیمز، پکنک یا سیر، بچوں میں تعلق اور تفریح کے لیے اسمارٹ فون کا انحصار کم کرتے ہیں۔

چوتھا اصول گفتگو اور آگاہی ہے۔ بچوں کو یہ سمجھانا بھی ضروری ہے کہ اسمارٹ فون کے غیر مناسب استعمال کے کیا نقصانات ہو سکتے ہیں، جیسے نیند کی کمی، آنکھوں کی تھکن یا سماجی رویوں پر اثر۔ ماہرین نفسیات کے مطابق جب بچے اس چیز کی اہمیت سمجھتے ہیں تو وہ خود اپنی حدود قائم کرنے کی طرف راغب ہوتے ہیں۔

پانچواں طریقہ والدین کے لیے تکنیکی حل ہیں۔ اسکرین ٹائم ایپس، پیرنٹل کنٹرول اور بلاک لسٹ فیچرز بچوں کے موبائل استعمال کو مؤثر طریقے سے منظم کرتے ہیں۔ یہ آلات بچوں کو ضروری وقت پر فون استعمال کرنے اور غیر ضروری مواد سے بچنے میں مدد دیتے ہیں۔

اسی طرح مستقل مزاجی اور پیار پر مبنی نگرانی بہت زیادہ اہم ہے۔ بچوں کی نگرانی میں سختی کے ساتھ ساتھ محبت اور رہنمائی بھی شامل ہونی چاہیے تاکہ وہ سمجھیں کہ حد مقرر کرنا والدین کا فرض ہے نہ کہ سزا۔ اس طریقے سے بچے ذمہ داری سیکھتے ہیں اور فون کے استعمال کو متوازن رکھنا آسان ہو جاتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اسمارٹ فون بچوں کی بچوں کے کے لیے

پڑھیں:

معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔

کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔

بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال

اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔

ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔

349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم

کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔

کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ