میکسیکو: اولمپک میڈلسٹ ایتھلیٹ منشیات اسمگلر نکلا، میڈلز ضبط
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
میکسیکو میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک چونکا دینے والے انکشاف میں انتہائی مطلوب سابق اولمپک ایتھلیٹ کے اولمپک میڈلز تحویل میں لے لیے ہیں۔ 44 سالہ رین ویڈنگ، جو ماضی میں ایک معروف اسنوبورڈر رہ چکا ہے، اب منشیات اسمگلنگ اور سنگین جرائم کے الزامات کی زد میں ہے۔
رین ویڈنگ نے 2002 میں سالٹ لیک سٹی میں ہونے والے ونٹر اولمپکس میں کینیڈا کی نمائندگی کی تھی، تاہم کھیلوں کے میدان سے نکلنے کے بعد اس کی زندگی نے ایک خطرناک موڑ لے لیا۔ حکام کے مطابق وہ بعد ازاں منشیات کی اسمگلنگ کے نیٹ ورک میں ملوث ہو گیا اور اس پر متعدد افراد کے قتل کے الزامات بھی عائد ہیں۔ اس وقت وہ ایف بی آئی کی جانب سے جاری کردہ 10 انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل ہے، اور اس کی گرفتاری میں مدد دینے پر 15 ملین ڈالر کا انعام مقرر کیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق رین ویڈنگ میکسیکو میں روپوش ہے، جہاں اسے ایک طاقتور مافیا گروہ کی سرپرستی حاصل ہے۔ حالیہ کارروائیوں کے دوران میکسیکن حکام نے اس کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے، جن کے نتیجے میں اسلحہ، منشیات، گاڑیاں، بھاری مقدار میں نقد رقم اور دو اولمپک میڈلز برآمد کیے گئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ضبط کیے گئے میڈلز اسی سابق اولمپیئن سے تعلق رکھتے ہیں، جو اس بات کی علامت ہیں کہ ایک وقت کا قومی ہیرو کس طرح جرائم کی دنیا میں جا گرا۔ تحقیقات جاری ہیں جبکہ رین ویڈنگ کی گرفتاری کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: رین ویڈنگ
پڑھیں:
واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد
امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک کاغذ سازی کے کارخانے میں کیمیائی ٹینک پھٹنے کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق تمام لاپتا افراد کی لاشیں ملبے سے نکال لی گئی ہیں، جبکہ حادثے کی وجوہات اور ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک صنعتی تنصیب پر کیمیائی ٹینک پھٹنے کے المناک حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 تک پہنچ گئی ہے۔ حکام نے ہفتے کے روز تصدیق کی کہ لاپتا قرار دیے گئے تمام نو افراد کی لاشیں ملبے سے برآمد کر لی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق ابتدائی طور پر حادثے کے فوراً بعد دو ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی تھی، جبکہ دیگر افراد لاپتا ہو گئے تھے۔ امدادی اور بحالی کی ٹیموں نے پورے ہفتے متاثرہ مقام پر سرچ آپریشن جاری رکھا، جس کے دوران عمارت کے اندر ملبے کو ہٹانے کے ساتھ ساتھ ڈرونز کی مدد سے علاقے کا فضائی جائزہ بھی لیا گیا۔
کاؤلٹز 2 فائر اینڈ ریسکیو کے ڈپٹی چیف کرٹ اسٹیچ نے بتایا کہ امدادی کارکنوں نے انتہائی دشوار حالات میں ملبے کے نیچے پھنسے افراد کی تلاش جاری رکھی اور بالآخر تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد کر لی گئیں۔
حادثہ منگل کے روز لانگ ویو شہر میں واقع نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ (Nippon Dynawave Packaging) کے کارخانے میں پیش آیا، جہاں ’وائٹ لِکر‘ نامی کیمیائی محلول سے بھرا ایک بڑا ٹینک اندرونی دباؤ کے باعث پھٹ گیا تھا۔ یہ محلول سوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ اور سوڈیم سلفائیڈ پر مشتمل ہوتا ہے اور کاغذ کے گودے (Paper Pulp) کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق متاثرہ ٹینک میں تقریباً 9 لاکھ گیلن (34 لاکھ لیٹر) کیمیائی محلول موجود تھا۔ بعد ازاں کیے گئے ٹیسٹوں سے یہ بات سامنے آئی کہ کچھ مقدار قریبی دریائے کولمبیا تک پہنچ گئی تھی، تاہم اب تک فضائی معیار یا لانگ ویو شہر کے پینے کے پانی پر کسی منفی اثرات کی نشاندہی نہیں ہوئی۔
نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ جاپان کی دوسری بڑی کاغذ ساز کمپنی Nippon Paper Industries کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی ہے۔ جاپانی کمپنی نے 2016 میں سیئٹل کی لکڑی اور جنگلاتی مصنوعات تیار کرنے والی کمپنی Weyerhaeuser سے لانگ ویو کا یہ پلانٹ 225 ملین ڈالر میں خریدا تھا۔
حکام نے کہا ہے کہ حادثے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور اس بات کا تعین کیا جا رہا ہے کہ ٹینک کے اندر دھماکے یا انہدام کی اصل وجہ کیا تھی۔ ساتھ ہی ماحولیاتی ماہرین بھی قریبی علاقوں میں ممکنہ آلودگی کے اثرات کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں