پی ایس ایل میں 85 کروڑ سینٹرل پول گارنٹی کی پیشکش صرف نئی ٹیموں تک محدود
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں 85 کروڑ روپے کی سینٹرل پول گارنٹی کی پیشکش صرف دو نئی ٹیموں کے لیے مخصوص کی گئی ہے، جبکہ موجودہ فرنچائزز اس میں شامل نہیں ہیں۔ موجودہ پانچ فرنچائزز سے صرف ایک اضافی صفحے پر دستخط لیے گئے، اصل کنٹریکٹ پر کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
تفصیلات کے مطابق، پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ساتویں اور آٹھویں ٹیموں کو پی ایس ایل 11 سے اگلے پانچ ایڈیشنز تک کم از کم 85 کروڑ روپے دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اسے “کم از کم سینٹرل پول انکم گارنٹی” کا نام دیا گیا ہے، جس کے تحت اگر کسی بھی ٹورنامنٹ میں ٹیم کا شیئر اس مقررہ رقم سے کم ہو جائے تو بورڈ کمی کو پورا کرے گا۔ بطور متبادل، نئی فرنچائزز کو اگلے ٹورنامنٹ کی فیس میں کمی کی صورت میں رعایت بھی دی جا سکتی ہے۔
پرانی پانچ ٹیمیں اس پیشکش سے محروم ہیں۔ ایک سے زائد ٹیم آفیشلز نے بتایا کہ انہیں ایسی کوئی آفر نہیں دی گئی، اور اگرچہ گارنٹی ملتی تو فائدہ ہوتا، لیکن ان کے خیال میں اس سے انہیں کوئی خاص نقصان یا فرق نہیں پڑے گا، کیونکہ سینٹرل پول سے عمومی طور پر ہر ٹیم کا حصہ 85 کروڑ روپے سے زائد ہی ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم نئی فرنچائزز کو راغب کرنے کے لیے اٹھایا گیا، اور یہ تجویز ویلیوایشن کرنے والی غیر ملکی کمپنی نے دی تھی۔ اس فیصلے سے لیگ میں نئی ٹیموں کے داخلے کو آسان بنانے اور ان کے ابتدائی مالی دباؤ کو کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سینٹرل پول
پڑھیں:
موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)نے موبائل کمپنیوں کو غیرمعیاری سروس اور کوریج پر خامیاں دور کرنے کے لیے 30دن کی مہلت دے دی اور بتایا کہ مذکورہ کمپنیوں کو گزشتہ چار برس میں 3 ارب 41 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں موبائل سروس کے معیار اور کوریج میں بہتری کے لیے ریگولیٹری کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔
پی ٹی اے نے سروس میں خامیوں پر موبائل آپریٹرز کو 30 روز میں ضروری اقدامات کرنے اور خرابیوں کی وجوہات کا تعین کرکے اصلاحی پلان جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔
موبائل کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ خامیاں دور نہ کرنے والے آپریٹرز کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔
پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران موبائل کمپنیوں کو 3 ارب 41کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور کوالٹی آف سروس اور کوریج کی خلاف ورزیوں پر 20وارننگ لیٹرز اور 86 شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔