پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں 85 کروڑ روپے کی سینٹرل پول گارنٹی کی پیشکش صرف دو نئی ٹیموں کے لیے مخصوص کی گئی ہے، جبکہ موجودہ فرنچائزز اس میں شامل نہیں ہیں۔ موجودہ پانچ فرنچائزز سے صرف ایک اضافی صفحے پر دستخط لیے گئے، اصل کنٹریکٹ پر کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
تفصیلات کے مطابق، پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ساتویں اور آٹھویں ٹیموں کو پی ایس ایل 11 سے اگلے پانچ ایڈیشنز تک کم از کم 85 کروڑ روپے دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اسے “کم از کم سینٹرل پول انکم گارنٹی” کا نام دیا گیا ہے، جس کے تحت اگر کسی بھی ٹورنامنٹ میں ٹیم کا شیئر اس مقررہ رقم سے کم ہو جائے تو بورڈ کمی کو پورا کرے گا۔ بطور متبادل، نئی فرنچائزز کو اگلے ٹورنامنٹ کی فیس میں کمی کی صورت میں رعایت بھی دی جا سکتی ہے۔
پرانی پانچ ٹیمیں اس پیشکش سے محروم ہیں۔ ایک سے زائد ٹیم آفیشلز نے بتایا کہ انہیں ایسی کوئی آفر نہیں دی گئی، اور اگرچہ گارنٹی ملتی تو فائدہ ہوتا، لیکن ان کے خیال میں اس سے انہیں کوئی خاص نقصان یا فرق نہیں پڑے گا، کیونکہ سینٹرل پول سے عمومی طور پر ہر ٹیم کا حصہ 85 کروڑ روپے سے زائد ہی ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم نئی فرنچائزز کو راغب کرنے کے لیے اٹھایا گیا، اور یہ تجویز ویلیوایشن کرنے والی غیر ملکی کمپنی نے دی تھی۔ اس فیصلے سے لیگ میں نئی ٹیموں کے داخلے کو آسان بنانے اور ان کے ابتدائی مالی دباؤ کو کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سینٹرل پول

پڑھیں:

پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز

اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔

دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔

توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی