معروف برطانوی باکسر حادثے میں زخمی، دو ٹیم ممبر ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
معروف برطانوی باکسر انتھونی جوشوا نائیجیریا میں ایک کار حادثے میں زخمی ہوگئے جبکہ ان کے دو ٹیم ممبر ہلاک ہوگئے ہیں۔
غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق سابق عالمی ہیوی ویٹ باکسنگ چیمپئن انتھونی جوشوا کی گاڑی کو نائجیریا کی ریاست اوگون میں حادثہ پیش آیا۔
نائیجیرین پولیس کا کہنا ہے کہ کہ انتھونی جوشوا کی گاڑی راستے میں کھڑے ٹرک سے ٹکرا گئی تھی۔ حادثے میں برطانوی باکسر کو معمولی زخم آئے تاہم اس افسوسناک واقعے میں ان کے دو قریبی دوست اور ٹیم کے ارکان جان کی بازی ہار گئے۔
???? BREAKING: Anthony Joshua just survived a fatal car crash that left two people dead in Nigeria
Here he is being pulled out of the back passenger seat
via @ringmagazine pic.
جوشوا کو احتیاطی طبی معائنے اور علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت مستحکم ہے۔
اوگون اسٹیٹ پولیس کمانڈ نے بتایا کہ حادثے کی وجوہات کی تحقیقات جاری ہیں۔
نائجیریا کی فیڈرل روڈ سیفٹی کور کے مطابق ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ گاڑی تیز رفتاری میں اوورٹیک کرتے ہوئے بے قابو ہو گئی اور سڑک کنارے کھڑے ایک ٹرک سے جا ٹکرائی۔
نائجیریا کے صدر بولا احمد ٹینوبو نے بھی اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جوشوا اور متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی اور اسے ایک دلخراش حادثہ قرار دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔