وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے 30 ہزار ٹریکٹرز پر مشتمل چیف منسٹر ٹریکٹر پروگرام کے ذریعے تاریخ کی سب سے بڑی ٹریکٹر سکیم کا ریکارڈ قائم کر دیا، اس پروگرام کا مقصد پنجاب کے کاشتکاروں کو معاشی خودمختاری فراہم کرنا اور زرعی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے۔چیف منسٹر ٹریکٹر پروگرام کے پہلے فیز میں 50 سے 75 ہارس پاور کے 10 ہزار ٹریکٹرز کاشتکاروں کو فراہم کر دیے گئے، دوسرے فیز میں 75 سے 85 ہارس پاور کے مزید 10 ہزار ٹریکٹرز کی قرعہ اندازی مکمل ہو چکی ہے جبکہ ان کی فراہمی کا عمل جاری ہے۔حکومت پنجاب کی جانب سے ہر ہائی ہارس پاور ٹریکٹر پر 10 لاکھ روپے سبسڈی دی جا رہی ہے جبکہ ہائی پاور ٹریکٹر سکیم کے لیے مجموعی طور پر 10 ارب روپے کی سبسڈی ادا کی جائے گی۔تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب ٹریکٹر سکیم کا تیسرا فیز جنوری میں شروع کیا جائے گا، کاشتکاروں کو 50 سے 55 ہارس پاور کے ٹریکٹرز کی فراہمی کے لیے وسط جنوری سے درخواستیں طلب کی جائیں گی، اس کے علاوہ ہائی ٹیک فارم میکانائزیشن فنانسنگ پروگرام کے تحت 100 سے 120 ہارس پاور کے بڑے ٹریکٹرز بلاسود قرضوں پر فراہم کیے جائیں گے۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اس موقع پر کہا کہ پنجاب کے کاشتکاروں کو ٹریکٹر کی فراہمی کا مقصد معاشی خودمختاری اور زیادہ پیداوار کا حصول ہے، کاشتکار بھائی اپنے ٹریکٹر کے مالک بن رہے ہیں، اس سے بڑھ کر خوشی کی بات اور کیا ہو سکتی ہے۔وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ حکومت پنجاب کسانوں کو فصل کی بوائی سے لے کر فروخت تک مکمل تعاون فراہم کر رہی ہے، جدید زرعی مشینری کی فراہمی سے پنجاب کاشتکاری میں خود کفیل ہوگا اور حکومت کھوکھلے نعروں کے بجائے عملی طور پر کسانوں کا سہارا بنے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: کاشتکاروں کو ہارس پاور کے ٹریکٹر سکیم کی فراہمی

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا