وزیراعلیٰ پنجاب نے سب سے بڑی ٹریکٹر سکیم کا ریکارڈ قائم کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے 30 ہزار ٹریکٹرز پر مشتمل چیف منسٹر ٹریکٹر پروگرام کے ذریعے تاریخ کی سب سے بڑی ٹریکٹر سکیم کا ریکارڈ قائم کر دیا، اس پروگرام کا مقصد پنجاب کے کاشتکاروں کو معاشی خودمختاری فراہم کرنا اور زرعی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے۔چیف منسٹر ٹریکٹر پروگرام کے پہلے فیز میں 50 سے 75 ہارس پاور کے 10 ہزار ٹریکٹرز کاشتکاروں کو فراہم کر دیے گئے، دوسرے فیز میں 75 سے 85 ہارس پاور کے مزید 10 ہزار ٹریکٹرز کی قرعہ اندازی مکمل ہو چکی ہے جبکہ ان کی فراہمی کا عمل جاری ہے۔حکومت پنجاب کی جانب سے ہر ہائی ہارس پاور ٹریکٹر پر 10 لاکھ روپے سبسڈی دی جا رہی ہے جبکہ ہائی پاور ٹریکٹر سکیم کے لیے مجموعی طور پر 10 ارب روپے کی سبسڈی ادا کی جائے گی۔تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب ٹریکٹر سکیم کا تیسرا فیز جنوری میں شروع کیا جائے گا، کاشتکاروں کو 50 سے 55 ہارس پاور کے ٹریکٹرز کی فراہمی کے لیے وسط جنوری سے درخواستیں طلب کی جائیں گی، اس کے علاوہ ہائی ٹیک فارم میکانائزیشن فنانسنگ پروگرام کے تحت 100 سے 120 ہارس پاور کے بڑے ٹریکٹرز بلاسود قرضوں پر فراہم کیے جائیں گے۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اس موقع پر کہا کہ پنجاب کے کاشتکاروں کو ٹریکٹر کی فراہمی کا مقصد معاشی خودمختاری اور زیادہ پیداوار کا حصول ہے، کاشتکار بھائی اپنے ٹریکٹر کے مالک بن رہے ہیں، اس سے بڑھ کر خوشی کی بات اور کیا ہو سکتی ہے۔وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ حکومت پنجاب کسانوں کو فصل کی بوائی سے لے کر فروخت تک مکمل تعاون فراہم کر رہی ہے، جدید زرعی مشینری کی فراہمی سے پنجاب کاشتکاری میں خود کفیل ہوگا اور حکومت کھوکھلے نعروں کے بجائے عملی طور پر کسانوں کا سہارا بنے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کاشتکاروں کو ہارس پاور کے ٹریکٹر سکیم کی فراہمی
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔