بچوں کی پرورش کیلئے دنیا کے چند بہترین ممالک کونسے ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
بچوں کی پرورش کے لیے دنیا کے بہترین ممالک وہ سمجھے جاتے ہیں جہاں تعلیم، صحت، حفاظت، والدین کے حقوق اور مجموعی معیارِ زندگی باقی ممالک سے بہتر ہو۔
عالمی رپورٹس اور عمومی درجہ بندیوں کی بنیاد پر درج ذیل ممالک اکثر سرفہرست رہتے ہیں:
1. فن لینڈ
یہاں دنیا کا بہترین تعلیمی نظام ہے جبکہ مفت اور معیاری صحت کی سہولیات اور بچوں پر کم تعلیمی دباؤ اور زیادہ تخلیقی آزادی میسر ہے۔
2.
ڈنمارک
ڈنمارک میں والدین کے لیے طویل پیرنٹل لیو کے ساتھ ساتھ محفوظ اور خوشحال معاشرہ میسر ہے جبکہ بچوں کی ذہنی صحت پر بھی خاص توجہ دی جاتی ہے۔
3. سویڈن
والدین کو 480 دن تک چھٹیاں فراہم کی جاتی ہیں جبکہ صنفی برابری اور بچوں کے حقوق کا مضبوط تحفظ یہاں نمایاں ہے۔
4. ناروے
بچوں کی فلاح کے لیے بہترین سماجی نظام اور قدرتی، محفوظ اور صاف ماحول میسر ہے جس جو کہ بچوں کی پرورش کیلئے انہتائی ضروری ہے۔
5. نیدرلینڈز
یہاں متوازن تعلیمی نظام اور بچوں کے لیے خوشگوار اور آزاد ماحول میسر ہے۔
6. کینیڈا
کینیڈا کا معیاری تعلیم اور صحت عالمی سطح پر مقبول ہے۔ کثیر الثقافتی اور محفوظ معاشرہ بھی کینیڈا کی علامت ہے۔
7. نیوزی لینڈ
یہاں قدرتی، پرامن اور فیملی فرینڈلی ماحول موجود ہے جبکہ بچوں کی ذہنی و جسمانی نشوونما پر بھی کافی زور دیا جاتا ہے۔
8. سوئٹزرلینڈ
یہاں اعلیٰ معیارِ زندگی اور محفوظ ماحول اور مضبوط اسکول سسٹم بچوں کی پرورش میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بچوں کی پرورش میسر ہے کے لیے
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔