یمن میں ہونیوالے واقعات امریکہ و اسرائیل کی شہہ پر ہو رہے ہیں، رہنماء انصار الله
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
اپنے ایک بیان میں کرنل عابد الثور کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات اپنی بحری بالادستی کو مستحکم کرنے کیلئے جنوبی یمن کی اسٹریٹجک بندرگاہوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آج یمن کی مسلح افواج کی سینئر عسکری قیادت کرنل "عابد الثور" نے کہا کہ "انصار الله"، جنوبی یمن کے حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ہم یمن کی خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ عابد الثور نے وضاحت کی کہ سعودی عرب، یمن كے اہم صوبے "حضر موت" پر کنٹرول چاہتا ہے تاکہ بحیرہ عرب تک اپنے تیل کی ترسیل کے راستے کو محفوظ بنا سکے۔ دوسری جانب متحدہ عرب امارات اپنی بحری بالادستی کو مستحکم کرنے کے لئے جنوبی یمن کی اسٹریٹجک بندرگاہوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات کو حضر موت اور المہرہ کا کبھی کنٹرول حاصل نہیں کرنے دے گا۔
کرنل عابد الثور نے ان اقدامات کو ایک منظم سازش قرار دیا ہے جو براہ راست امریکہ و اسرائیل کی ہدایت پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ذریعے عمل میں لائی جا رہی ہے۔ واضح رہے کہ جنوبی یمن میں سعودی عرب اور UAE کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران، "عدن" میں سعودی نواز "صدارتی کونسل" کے سربراہ "رشاد محمد العلیمی" نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدہ منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے اماراتی افواج کو یمن کی سرزمین چھوڑنے کے لئے 24 گھنٹے کی مہلت دی۔ مزید برآں، ریاض اور ابو ظہبی کے درمیان جنوبی یمن میں کشمکش کے دوران ہی، سعودی اتحاد نے اعلان کیا کہ اس نے دو بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جو اسلحہ لے کر یو اے ای کی بندرگاہ "الفجیرہ" سے یمن کے صوبہ حضرموت کی بندرگاہ "المکلا" جا رہے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: متحدہ عرب امارات عابد الثور یمن کی
پڑھیں:
واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
اسرائیل کی جانب سے لبنان پر خون ریز حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان واشنگٹن میں مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق لبنان اور اسرائیل کے درمیان واشنگٹن میں شروع ہونے والے مذاکرات جنگ بندی مذاکرات کا تسلسل اور چوتھا دور ہے۔
لبنان کی سرکاری خبرایجنسی نے بتایا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا چوتھا دور واشنگٹن میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ہیڈکوارٹرز میں شروع ہوگئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ مذاکرات کے لیے دونوں فریق کے نمائندے واشنگٹن پہنچے، جس کے بعد مذاکرات شروع ہوئے ہیں۔
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو لبنان پر حملوں کے حوالے سے ٹیلی فون پر سخت الفاظ کا استعمال کیا تھا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو پاگل قرار دیا اور کہا کہ ہر کوئی تم سے نفرت کرتا ہے، اسی وجہ سے لوگ اسرائیل سے بھی نفرت کرتے ہیں۔
دوسری جانب لبنان پر اسرائیل کے حملے جاری ہیں جہاں جنوبی لبنان کے بڑے شہروں میں سے ایک نباطیہ پر شدید بم باری کی گئی ہے۔