پنجاب اسمبلی سیکرٹری انسانی حقوق کی عدم حاضری پر اظہار برہمی، کورم پورا نہ ہونے پر اجلاس پھر ملتوی
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
لاہور (خصوصی نامہ نگار) پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کے میڈیا نمائندگان کو” بکاو مال “ کہنے پر شدید احتجاج، پریس گیلری سے میڈیا نے واک آﺅٹ کر دیا، حکومت کو ایوان میں کورم پورا نہ کرنے پر ایک بار پھر سبکی کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد اجلاس آج صبح تک ملتوی کر دیا گیا۔ سوموار کے روز پنجاب اسمبلی کا اجلاس دو گھنٹے آٹھ منٹ کی تاخیر سے پینل آف چیئرمین سمیع اللہ خان کی صدارت میں شروع ہوا، تو اپوزیشن نے بار بار پوائنٹ آف آرڈر کیلئے اصرارکیا لیکن چیئر نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس انداز میں دھمکیاں نہیں دی جا سکتیں۔ اجلاس میں محکمے کی درخواست پر پی اینڈ ڈی کے تمام سوالات مو خر کر دیئے گئے۔ پینل آف چیئرمین سمیع اللہ خان نے محکمہ انسانی حقوق و اقلیتی امور کے سیکرٹری اور سپیشل سیکرٹری کی ایوان میں عدم حاضری پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور سیکرٹری انسانی حقوق اور اقلیتی امور کو ہر صورت آج کے اجلاس میں پیش ہونے کی ہدایت جاری کر دی۔ سیکشن آفیسر کی موجودگی قابل قبول نہیں۔ پینل آف چیئرمین نے گیلری میں بیٹھے سیکشن آفیسرز کو گیلری سے جانے کی ہدایت کر دی اور کہا کہ سیکرٹری اگر غیر حاضری کا جواز پیش کریں گے تو تحریری ثبوت سیکرٹریٹ میں جمع کرانا ہوگا۔ محض سرکاری مصروفیت کا بہانہ قابل قبول نہیں ہوگا، ایوان کو جواب درکار ہے۔ یو این کی دونوں جانب سے محکمہ انسانی حقوق و اقلیتی امور کے سیکرٹری کے طرز عمل پر شدید ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیاہے۔ حکومتی رکن اسمبلی احسن رضا قصور میں ان پڑھ لوگوں کی تعداد زیادہ ہونے پر غصہ میں آگئے،ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں 16 لاکھ لوگ ان پڑھ ہیں اور ضلع قصور میں سب سے زیادہ ان پڑھ لوگ ہیں۔ پنجاب کا لٹریسی ریٹ 64.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سمیع اللہ خان پنجاب اسمبلی پریس گیلری پینل آف ان پڑھ
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی