لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایف بی آر نے ٹیکس قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں پر وسطی پنجاب میں دو شوگر ملز سیل کردیں۔ کارروائی حکومت کی جانب سے ٹیکس قوانین کی خلاف ورزیوں پر زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کی گئی ہے۔

نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے وسطی پنجاب میں واقع دو شوگر ملز کو قانونی تقاضوں کی سنگین خلاف ورزیوں پر سیل کر دیا۔ ترجمان کے مطابق یہ  کارروائی سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے تحت کی گئی۔

یہ اقدام ایف بی آر کے اس پختہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ ایف بی آر نے رضاکارانہ کمپلائنس کی حوصلہ افزائی کے عزم کا بھی اعادہ کیا ہے، جبکہ جان بوجھ کر عدم  کمپلائنس  اور ٹیکس قوانین کی خلاف ورزیوں پر سخت انفورسمنٹ  کا عندیہ دیا گیا ہے۔

طلاق کے بعد نیا ہنگامہ، عماد وسیم کی مبینہ گرل فرینڈ نائلہ راجہ کا بیان سامنے آ گیا

دوسری طرف کسٹمز انفورسمنٹ کوئٹہ کی کارروائی میں ب22 کروڑ 63 لاکھ  روپے مالیت کا سمگل شدہ سامان ضبط کرلیا گیا۔ ترجمان کے مطابق یہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ایف سی نارتھ بلوچستان کے تعاون سےکیا گیا ۔ ضبط کیے گئے سامان میں 53 ہزار کلوگرام سے زائد  چھالیہ، چائنہ  نمک کے 180 تھیلے اور دیگر سامان شامل ہے۔ دو مسافر بسیں بھی ضبط کی گئی اشیا میں شامل ہیں۔

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: خلاف ورزیوں پر ٹیکس قوانین کی

پڑھیں:

بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی

سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔

متعلقہ مضامین

  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار