کمپٹیشن کمیشن کا گمراہ کن تشہیر پر سخت ایکشن، مختلف سیکٹرز میں بھاری جرمانے
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
کمپٹیشن کمیشن نے رئیل اسٹیٹ، آٹو موبائل، تعلیم اور کاسمیٹکس سیکٹر میں دھوکا دہی پر مبنی اشتہارات کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے بھاری جرمانے عائد کیے ہیں۔
اسلام آباد میں جعلی اور گمراہ کن ہاؤسنگ اشتہارات پر تحقیقات کی گئی، جبکہ لاہور میں ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی گمراہ کن تشہیر کے خلاف کارروائی جاری ہے۔
کنگڈم ویلی پر گمراہ کن اشتہار کے لیے 15 کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا گیا اور بینک اکاؤنٹس منسلک کرکے 2 کروڑ 70 لاکھ روپے ریکور کیے گئے۔
اسکن وائٹننگ کریمز میں مرکری کے خطرناک استعمال پر تحقیقات شروع کی گئی۔
ہنڈائی ٹکسن کی لانچ قیمتوں کے حوالے سے گمراہ کن اشتہار پر 2 کروڑ 50 لاکھ روپے جرمانہ عائد ہوا۔
تعلیم کے شعبے میں برٹش لیسیئم کے اشتہار پر 50 لاکھ روپے جرمانہ لگایا گیا۔
کسانوں کو گمراہ کرنے پر الغازی ٹریکٹرز پر 4 کروڑ روپے جرمانہ عائد ہوا۔
کمپٹیشن کمیشن نے مزید کارروائی کرتے ہوئے:
اسٹریپسلز کیس میں 15 کروڑ روپے کا جرمانہ برقرار رکھا۔
جعلی بین الاقوامی سرٹیفکیشن کے دعوے کرنے پر 3N لائف میڈ کے خلاف کارروائی کی۔
ڈائمنڈ پینٹس کیس میں بھی جرمانے کا حکم برقرار رہا۔
کمیشن کا یہ اقدام صارفین کے حقوق کے تحفظ اور مارکیٹ میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: روپے جرمانہ گمراہ کن
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔