فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو نے 2026 فٹبال ورلڈ کپ کے مہنگے ٹکٹوں پر ہونے والی شدید تنقید کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹورنامنٹ کے لیے ٹکٹوں کی مانگ ریکارڈ سطح تک پہنچ چکی ہے۔ ان کے مطابق دسمبر میں شروع ہونے والے حالیہ سیلز ونڈو کے دوران 150 ملین سے زائد ٹکٹ درخواستیں موصول ہوئیں، جو ایک غیر معمولی تعداد ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کی کھیل کے میدان میں تاریخی کامیابی، رکن اسمبلی آمنہ بتول کو فیفا میں عہدہ مل گیا

دبئی میں منعقدہ ورلڈ اسپورٹس سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے انفانٹینو نے کہا کہ یہ اعداد و شمار ورلڈ کپ کی عالمی مقبولیت کا واضح ثبوت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹورنامنٹ سے حاصل ہونے والی آمدنی کا بڑا حصہ دنیا بھر میں فٹبال کے فروغ پر خرچ کیا جائے گا، اور دعویٰ کیا کہ فیفا کے بغیر دنیا کے 150 ممالک میں فٹبال کا وجود ممکن نہ ہوتا۔

 

2026 ورلڈ کپ، جو امریکا، کینیڈا اور میکسیکو میں منعقد ہوگا، کے ٹکٹوں کی قیمتیں ابتدائی میچز کے لیے 140 ڈالر سے شروع ہو کر فائنل میچ کے لیے 4,185 ڈالر (سستے ترین) اور 8,680 ڈالر (مہنگے ترین) تک پہنچ چکی ہیں، جس پر شائقین کی جانب سے شدید غم و غصہ دیکھا جا رہا ہے۔

عوامی ردعمل کے بعد فیفا نے اعلان کیا ہے کہ وہ ہر میچ کے لیے محدود تعداد میں 60 ڈالر کے خصوصی ٹکٹ بھی فروخت کرے گا، تاہم یہ مجموعی ٹکٹوں کا ایک چھوٹا سا حصہ ہوں گے۔

مزید پڑھیں:پاکستان ویمن فٹبال ٹیم پہلی بار فیفا سیریز میں شامل

فیفا کے مطابق ٹکٹوں کی فروخت کا موجودہ مرحلہ 13 جنوری تک جاری رہے گا اور درخواست جمع کرانے کی تاریخ سے کامیابی کے امکانات متاثر نہیں ہوں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

2026 فٹبال ورلڈ کپ فیفا فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو مہنگے ٹکٹس.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: 2026 فٹبال ورلڈ کپ فیفا فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو مہنگے ٹکٹس فیفا کے ورلڈ کپ کے لیے

پڑھیں:

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر