محمد السنوار، ابو عبیدہ اور دیگر مجاہدینِ اسلام کی شہادت پر ملت فلسطین کو تعزیت پیش کرتے ہیں، امین شیرازی
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
اپنے تعزیتی بیان میں مرکزی صدر آئی ایس او پاکستان نے کہا کہ مزاحمتِ فلسطین کا یہ امتیاز ہے کہ اس نے اپنے قائدین کی ایک بڑی تعداد کو راہِ حق میں قربان کیا، لیکن اس کے باوجود اس کی صفوں میں عزم، وقار اور ثابت قدمی میں کوئی کمی نہیں آئی۔ اسلام ٹائمز۔ القسام بریگیڈ کے سربراہ محمد السنوار، ترجمان ابو عبیدہ اور دیگر مجاہدینِ اسلام کی شہادت پرملتِ مظلومِ فلسطین اور حماس کے مجاہدین سے گہری تعزیت کا اظہار کرتے ہیں، ان عظیم شہداء کی قربانیاں امتِ مسلمہ کی تاریخ میں مزاحمت، حوصلے اور استقامت کی روشن مثال ہیں۔ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر سید امین شیرازی نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ یہ شہداء اس مبارک اور تابندہ سلسلے کی کڑیاں ہیں جس نے ہر دور میں ظلم، جبر اور استعمار کے اندھیروں کے مقابل اپنے لہو سے مزاحمت کی شمع روشن رکھی۔ انہوں نے کہا کہ مزاحمتِ فلسطین کا یہ امتیاز ہے کہ اس نے اپنے قائدین کی ایک بڑی تعداد کو راہِ حق میں قربان کیا، لیکن اس کے باوجود اس کی صفوں میں عزم، وقار اور ثابت قدمی میں کوئی کمی نہیں آئی۔
سید امین شیرازی کا کہنا تھا کہ ہم ان تمام مجاہدینِ اسلام کو سلام پیش کرتے ہیں جو انتہائی نامساعد حالات کے باوجود صبر، حوصلے اور استقامت کے ساتھ حق کے راستے پر جہاد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، لواحقین کے لیے صبرِ جمیل اور ملتِ فلسطین کی جلد کامیابی کے لیے دعا کی۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ فلسطین کی مزاحمت آج بھی پوری امت کے لیے بیداری، غیرت اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا پیغام ہے، اور یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔