عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے پاکستان میں مقامی سطح پر تیار کی جانے والی ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں اور بائیکس پر دی گئی سیلز ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے آئندہ مالی سال سے ان گاڑیوں پر ٹیکس چھوٹ ختم کر کے 18 فیصد کی سٹینڈرڈ شرح کے مطابق سیلز ٹیکس عائد کرنے پر زور دیا ہے۔دستاویزات کے مطابق اس وقت لوکل مینوفیکچرڈ ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں کو سیلز ٹیکس کے آٹھویں شیڈول کے تحت ٹیکس چھوٹ حاصل ہے، تاہم آئی ایم ایف نے وزارتِ صنعت و پیداوار کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں اس رعایت کو ختم کرنے کی تجویز دی ہے۔آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ مقامی سطح پر تیار ہائبرڈ گاڑیوں اور بائیکس کو آٹھویں شیڈول سے نکال کر نارمل ٹیکس رجیم میں شامل کیا جائے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ قوانین کے تحت 1800 سی سی تک مقامی سطح پر تیار کی گئی ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر 8.

5 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہے، جبکہ 1801 سی سی سے 2500 سی سی تک کی ہائبرڈ گاڑیوں پر 12.75 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہے۔دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ لوکل مینوفیکچرڈ ہائبرڈ الیکٹرک وہیکلز کو 30 جون 2026 تک سیلز ٹیکس میں چھوٹ حاصل ہے، لوکل مینوفیکچرڈ ہائبرڈ الیکٹریکل گاڑیوں اور بائیکس پر آئندہ مالی سال سے سیلز ٹیکس چھوٹ ختم ہوگی۔آئی ایم ایف کی جانب سے ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کے مطالبے کی صورت میں آئندہ مالی سال سے ہائبرڈ گاڑیوں اور بائیکس کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے صارفین کے ساتھ ساتھ مقامی آٹو انڈسٹری بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: گاڑیوں اور بائیکس ہائبرڈ الیکٹرک ٹیکس چھوٹ ختم آئی ایم ایف سیلز ٹیکس

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ