سانگلہ ہل: جھگڑا رکوانے آئی پولیس پر مسلح افرادکا حملہ، تھانیدار کی وردی پھاڑ دی
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
ننکانہ صاحب (نامہ نگار) سانگلہ ہل کے نواحی علاقے چک 45 ڈیرہ اوڈاں میں مشتعل مسلح افراد نے لڑائی جھگڑا رکوانے آنے والی پولیس پارٹی پر حملہ کر کے تھانیدار کی وردی پھاڑ دی اور سرکاری گاڑی کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔ پولیس تھانہ صدر سانگلہ ہل جھگڑے کی اطلاع ملنے پر موقع پر پہنچی تو ذیشان اور اسلم اپنے ساتھیوں سمیت آپس میں جھگڑے میں مصروف تھے۔ پولیس کی جانب سے حالات قابو میں کرنے کی کوشش پر ڈنڈوں اور اسلحہ سے لیس دونوں فریقین، جن میں نامعلوم مرد و خواتین بھی شامل تھے، اچانک پولیس پارٹی پر حملہ آور ہو گئے۔ عمر حیات اے ایس آئی کی وردی پھاڑ دی اور کانسٹیبل کاشف کا موبائل فون توڑ دیا گیا جبکہ سرکاری گاڑی کا شیشہ بھی توڑ دیا، پولیس نے فوری طور پر صورتحال پر قابو پایا اور ملزموں کے خلاف تھانہ صدر سانگلہ ہل میں مقدمہ درج کر کے کارروائی شروع کر دی ہے۔
پولیس پر حملہ
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔