فیصل آباد، کمسن لڑکی اور بچے: سرگودھا میں لڑکے سے زیادتی، 3 ملزم گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
فیصل آباد+ سرگودھا (نمائندہ خصوصی) فیصل آباد میں کمسن لڑکی اور بچہ، سرگودھا میں 12 سالہ بچے کو زیادتی کا نشانہ بنا دیا گیا۔ تھانہ غلام محمد آباد کے علاقہ سعید آباد میں ملزم عدیل نے محلہ دار زینت فاطمہ کی چودہ سالہ بھتیجی کو گھر بلایا اور زیادتی کا نشانہ بنا دیا۔ تھانہ رضا آباد کے علاقہ جمیل پارک میں عبدالر وف کا بیٹا گلی میں کھیل رہا تھا۔ ملزم شکیل اسے ورغلا کر اپنے گھر میں لے گیا اور زیادتی کا نشانہ بنا دیا۔ پولیس نے مقدمات درج کر کے ملزموں کے خلاف کارروائی شروع کر دی۔ سرگودھا کے قصبہ شاہ پور اوباش افراد نے بارہ سالہ بچے کو زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔ پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کر کے تینوں ملزموں جنید، عبدالحمید اور گل میر گرفتار کر لیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔