پی آئی اے کا اسلام آباد سے لندن کیلئے پروازیں شروع کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
ویب ڈیسک: قومی ایئر لائن پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) نے اسلام آباد سے لندن کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
ترجمان پی آئی اے کے مطابق اسلام آباد سے لندن کے لیے ہفتہ وار چار پروازیں آپریٹ کی جائیں گی، جو لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ کے جدید ترین ٹرمینل 4 سے روانہ ہوں گی۔
پی آئی اے کی لندن کے لیے پہلی پرواز 29 مارچ سے روانہ ہوگی۔ ترجمان کے مطابق یہ روٹ 6 سال کے وقفے کے بعد دوبارہ فعال ہو رہا ہے اور لندن پی آئی اے کا سب سے پہلا اور انتہائی پرکشش بین الاقوامی روٹ ہے۔
ڈورپھرنےسےشدیدزخمی 2 سالہ زینب کی جناح ہسپتال میں سرجری
واضح رہے کہ پی آئی اے پہلے ہی مانچسٹر کے لیے ہفتہ وار تین پروازیں چلا رہی ہے، جس کا افتتاح وزیر دفاع خواجہ آصف نے اکتوبر 2025 میں کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پی آئی اے لندن کے کے لیے
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔