اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) ادارہ شماریات نے ایک سال کے دوران اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں ہونے والے ردو بدل سے متعلق اعداد و شمار جاری کر دیے۔اعداد و شمار کے مطابق ایک سال میں چینی کی قیمت میں 16.32 فیصد کا اضافہ ہوا، ملک میں چینی کی اوسط فی کلو قیمت 137.33 روپے تھی جو بڑھ کر اس وقت 159.74 روپے فی کلو ہے۔ 2025 میں چینی کی زیادہ سے زیادہ فی کلو قیمت 229 روپے تک گئی تھی۔ایک سال میں آٹا 22.

56 فیصد مہنگا ہوا، ایک سال قبل آٹے کے 20 کلو تھیلے کی اوسط قیمت 1794روپے 93 پیسے تھی، آٹے کے 20 کلو والے تھیلے کی اوسط قیمت اس وقت 2199 روپے 85 پیسے ہے۔رپورٹ کے مطابق ایک سال قبل زندہ برائلر چکن کی فی کلو قیمت 409 روپے 22 پیسے تھی، اس وقت ملک میں چکن کی فی کلو اوسط قیمت 424 روپے 89 پیسے ہے۔بیف 13.01 فیصد، گڑ 12.46 فیصد اور کیلے 11.24 فیصد مہنگے ہوئے جبکہ پسی ہوئی مرچ 10.31اور انڈے 9.71 فیصد مہنگے ہوئے۔ادارہ شماریات کے مطابق ایک سال کے دوران دودھ پاوڈر 9.51 فیصد مہنگا ہوا جبکہ گیس چارجز 29.85 فیصد بڑھ گئے، جلانے والی لکڑی کی قیمت میں ایک سال میں11.02 فیصد کا اضافہ ہوا۔ 2025 میں مٹن، تازہ دودھ، دہی اور گھی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ ایک سال میں ٹماٹر 74.92 اور آلو 49.79 فیصد سستے ہوئے، لہسن 38.17 فیصد اور دال چنا 29.66 فیصد سستی ہوئی، پیاز 29.23 اور چائے کی پتی 17.79 فیصد سستی ہوئی۔ادارہ شماریات کا بتانا ہے کہ دال ماش 13.14 اور دال مسور 6.62 فیصد سستی ہوئی، ایک سال میں بجلی چارجز میں 6.87 فیصد کی کمی ہوئی۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان

اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟