اسلام ٹائمز: بلوچستان جیسے سماج میں جہاں تاریخی محرومیاں اور سیاسی پیچیدگیاں گہری ہیں، وہاں جمہوریت محض انتخابی سرگرمی نہیں بلکہ ایک مسلسل شعوری، فکری اور تنظیمی جدوجہد کا تقاضا کرتی ہے۔ ایک پائیدار اور باوقار جمہوری مستقبل اسی صورت ممکن ہے، جب سیاست فرد سے بلند ہو کر اداروں، اصولوں اور اجتماعی دانش کے ساتھ جڑ جائے۔ تاریخ بارہا یہ سبق دیتی ہے کہ معاشرے شخصیات کے سہارے نہیں بلکہ نظریات، تنظیم اور مسلسل شعوری جدوجہد کی بنیاد پر آگے بڑھتے ہیں اور یہی وہ مستقل سوال ہے، جو بلوچستان کی وقتی سیاست کے سامنے آج بھی پوری شدت سے موجود ہے۔ تحریر: انور بلوچ
مرکزی سیکرٹری اطلاعات بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی

اگر بلوچستان کی سیاست کو اقتدار کی عارضی بساط وقتی سیاسی مفاہمت اور غیر پائیدار صف بندیوں کے بجائے ایک سنجیدہ، مسلسل اور باشعور جمہوری عمل کے طور پر دیکھا جائے تو یہ حقیقت نمایاں ہو جاتی ہے کہ یہاں اصل بحران افراد کی کمی کا نہیں بلکہ ادارہ جاتی سیاست، تنظیمی تسلسل اور فکری وابستگی کی کمزوری کا نمایاں ہوتا ہے۔ یہ کمزوری وقت کے ساتھ مختلف سیاسی قوتوں کے شعوری یا غیر شعوری کردار کا نتیجہ بھی رہی ہے۔ دنیا کی مہذب جمہوریتوں میں سیاسی جماعتیں محض انتخاب جیتنے یا اقتدار تک رسائی کا ذریعہ نہیں ہوتیں بلکہ وہ سماجی شعور اور سیاسی تربیت کی باقاعدہ درسگاہیں ہوتی ہیں۔ وہاں نظریہ، پروگرام، تنظیم اور اجتماعی فیصلہ سازی ایک تدریجی اور مسلسل عمل کے تحت پروان چڑھتی ہے۔

کارکن صرف حکم ماننے والا نہیں بلکہ سوال کرنے والا، رائے رکھنے والا اور سیاسی عمل میں شریک باشعور فرد ہوتا ہے۔ اسی تسلسل میں جمہوری سیاست افراد کے بجائے اصولوں اور اداروں کو مرکز بناتی ہے اور عوامی نمائندگی کو شخصی وابستگی کے بجائے اجتماعی دانش سے جوڑتی ہے۔ بلوچستان کے سیاسی منظرنامے میں یہ ادارہ جاتی تصور بتدریج کمزور پڑتا چلا گیا ہے۔ یہاں سیاست اکثر شخصیات کے گرد گھومتی دکھائی دیتی ہے، جس کے نتیجے میں جماعت ایک منظم ادارے کے بجائے فردِ واحد کی توسیع بن جاتی ہے اس فضا میں سیاسی کارکن کی حیثیت ایک باشعور شریک کے بجائے وفاداری نبھانے والے پیروکار تک محدود ہو جاتی ہے، جو جمہوری سیاست کی روح کے عین مطابق نہیں۔ اس صورتحال کو مزید پیچیدہ وہ سیاسی تجربات بناتے ہیں، جن میں بغیر کسی فکری تیاری عوامی جدوجہد یا تنظیمی ارتقاء کے راتوں رات سیاسی تشکیلیں سامنے آتی ہیں۔

ایسی تشکیلیں عوامی شعور کی نمائندگی کے بجائے وقتی سیاسی ضرورتوں کا عکس بن کر رہ جاتی ہیں۔ نتیجتاً سیاست نظریئے، پروگرام اور تنظیم کے بجائے عارضی مفادات، شخصی تعلقات اور اثر و رسوخ کے گرد مرتکز ہونے لگتی ہے۔ یہی پس منظر بلوچستان میں جماعتی سیاست کی کمزوری اور شخصیت پرستی کی مضبوطی کو واضح کرتا ہے۔ تنظیمی تسلسل کے فقدان اور اندرونی جمہوریت کی غیر موجودگی میں سیاست ایک اجتماعی جمہوری عمل کے بجائے فردی مرکزیت کا شکار ہو جاتی ہے۔ ایسے میں اختلافِ رائے، تنقید اور سوال اٹھانے کی روایت کمزور پڑتی ہے، جو کسی بھی صحت مند سیاسی نظام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ درحقیقت جمہوری سیاست کی اصل طاقت تنظیمی جاری، اختلاف کے حق، تعمیری تنقید اور اجتماعی فیصلہ سازی میں مضمر ہوتی ہے ایک بالغ سیاسی جماعت وہی ہوتی ہے، جہاں اختلاف کو بغاوت نہیں بلکہ فکری بالیدگی سمجھا جائے اور تنقید کو تصادم کے بجائے اصلاح کا ذریعہ مانا جائے۔

بلوچستان جیسے سماج میں جہاں تاریخی محرومیاں اور سیاسی پیچیدگیاں گہری ہیں، وہاں جمہوریت محض انتخابی سرگرمی نہیں بلکہ ایک مسلسل شعوری، فکری اور تنظیمی جدوجہد کا تقاضا کرتی ہے۔ ایک پائیدار اور باوقار جمہوری مستقبل اسی صورت ممکن ہے، جب سیاست فرد سے بلند ہو کر اداروں، اصولوں اور اجتماعی دانش کے ساتھ جڑ جائے۔ تاریخ بارہا یہ سبق دیتی ہے کہ معاشرے شخصیات کے سہارے نہیں بلکہ نظریات، تنظیم اور مسلسل شعوری جدوجہد کی بنیاد پر آگے بڑھتے ہیں اور یہی وہ مستقل سوال ہے، جو بلوچستان کی وقتی سیاست کے سامنے آج بھی پوری شدت سے موجود ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اور اجتماعی اور سیاسی نہیں بلکہ کے بجائے جاتی ہے

پڑھیں:

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک

فائل فوٹو۔

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 17دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔ 

مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یہ آپریشنز 24 مئی کے ٹرین واقعہ کے بعد کیے، جو مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے اضلاع میں کیے گئے۔ 

آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکت سے ان علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو بہت زیادہ نقصان ہوا، ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بڑی مقدار میں بارودی مواد اور آئی ای ڈیز برآمد کیے گئے۔ 

آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ ان علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی ملک گیر انسدادِ دہشت گردی مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی اور ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت