بلوچستان میں سیاست کا ادارہ جاتی بحران، وقتی سیاست اور مستقل سوال
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
اسلام ٹائمز: بلوچستان جیسے سماج میں جہاں تاریخی محرومیاں اور سیاسی پیچیدگیاں گہری ہیں، وہاں جمہوریت محض انتخابی سرگرمی نہیں بلکہ ایک مسلسل شعوری، فکری اور تنظیمی جدوجہد کا تقاضا کرتی ہے۔ ایک پائیدار اور باوقار جمہوری مستقبل اسی صورت ممکن ہے، جب سیاست فرد سے بلند ہو کر اداروں، اصولوں اور اجتماعی دانش کے ساتھ جڑ جائے۔ تاریخ بارہا یہ سبق دیتی ہے کہ معاشرے شخصیات کے سہارے نہیں بلکہ نظریات، تنظیم اور مسلسل شعوری جدوجہد کی بنیاد پر آگے بڑھتے ہیں اور یہی وہ مستقل سوال ہے، جو بلوچستان کی وقتی سیاست کے سامنے آج بھی پوری شدت سے موجود ہے۔ تحریر: انور بلوچ
مرکزی سیکرٹری اطلاعات بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی
اگر بلوچستان کی سیاست کو اقتدار کی عارضی بساط وقتی سیاسی مفاہمت اور غیر پائیدار صف بندیوں کے بجائے ایک سنجیدہ، مسلسل اور باشعور جمہوری عمل کے طور پر دیکھا جائے تو یہ حقیقت نمایاں ہو جاتی ہے کہ یہاں اصل بحران افراد کی کمی کا نہیں بلکہ ادارہ جاتی سیاست، تنظیمی تسلسل اور فکری وابستگی کی کمزوری کا نمایاں ہوتا ہے۔ یہ کمزوری وقت کے ساتھ مختلف سیاسی قوتوں کے شعوری یا غیر شعوری کردار کا نتیجہ بھی رہی ہے۔ دنیا کی مہذب جمہوریتوں میں سیاسی جماعتیں محض انتخاب جیتنے یا اقتدار تک رسائی کا ذریعہ نہیں ہوتیں بلکہ وہ سماجی شعور اور سیاسی تربیت کی باقاعدہ درسگاہیں ہوتی ہیں۔ وہاں نظریہ، پروگرام، تنظیم اور اجتماعی فیصلہ سازی ایک تدریجی اور مسلسل عمل کے تحت پروان چڑھتی ہے۔
کارکن صرف حکم ماننے والا نہیں بلکہ سوال کرنے والا، رائے رکھنے والا اور سیاسی عمل میں شریک باشعور فرد ہوتا ہے۔ اسی تسلسل میں جمہوری سیاست افراد کے بجائے اصولوں اور اداروں کو مرکز بناتی ہے اور عوامی نمائندگی کو شخصی وابستگی کے بجائے اجتماعی دانش سے جوڑتی ہے۔ بلوچستان کے سیاسی منظرنامے میں یہ ادارہ جاتی تصور بتدریج کمزور پڑتا چلا گیا ہے۔ یہاں سیاست اکثر شخصیات کے گرد گھومتی دکھائی دیتی ہے، جس کے نتیجے میں جماعت ایک منظم ادارے کے بجائے فردِ واحد کی توسیع بن جاتی ہے اس فضا میں سیاسی کارکن کی حیثیت ایک باشعور شریک کے بجائے وفاداری نبھانے والے پیروکار تک محدود ہو جاتی ہے، جو جمہوری سیاست کی روح کے عین مطابق نہیں۔ اس صورتحال کو مزید پیچیدہ وہ سیاسی تجربات بناتے ہیں، جن میں بغیر کسی فکری تیاری عوامی جدوجہد یا تنظیمی ارتقاء کے راتوں رات سیاسی تشکیلیں سامنے آتی ہیں۔
ایسی تشکیلیں عوامی شعور کی نمائندگی کے بجائے وقتی سیاسی ضرورتوں کا عکس بن کر رہ جاتی ہیں۔ نتیجتاً سیاست نظریئے، پروگرام اور تنظیم کے بجائے عارضی مفادات، شخصی تعلقات اور اثر و رسوخ کے گرد مرتکز ہونے لگتی ہے۔ یہی پس منظر بلوچستان میں جماعتی سیاست کی کمزوری اور شخصیت پرستی کی مضبوطی کو واضح کرتا ہے۔ تنظیمی تسلسل کے فقدان اور اندرونی جمہوریت کی غیر موجودگی میں سیاست ایک اجتماعی جمہوری عمل کے بجائے فردی مرکزیت کا شکار ہو جاتی ہے۔ ایسے میں اختلافِ رائے، تنقید اور سوال اٹھانے کی روایت کمزور پڑتی ہے، جو کسی بھی صحت مند سیاسی نظام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ درحقیقت جمہوری سیاست کی اصل طاقت تنظیمی جاری، اختلاف کے حق، تعمیری تنقید اور اجتماعی فیصلہ سازی میں مضمر ہوتی ہے ایک بالغ سیاسی جماعت وہی ہوتی ہے، جہاں اختلاف کو بغاوت نہیں بلکہ فکری بالیدگی سمجھا جائے اور تنقید کو تصادم کے بجائے اصلاح کا ذریعہ مانا جائے۔
بلوچستان جیسے سماج میں جہاں تاریخی محرومیاں اور سیاسی پیچیدگیاں گہری ہیں، وہاں جمہوریت محض انتخابی سرگرمی نہیں بلکہ ایک مسلسل شعوری، فکری اور تنظیمی جدوجہد کا تقاضا کرتی ہے۔ ایک پائیدار اور باوقار جمہوری مستقبل اسی صورت ممکن ہے، جب سیاست فرد سے بلند ہو کر اداروں، اصولوں اور اجتماعی دانش کے ساتھ جڑ جائے۔ تاریخ بارہا یہ سبق دیتی ہے کہ معاشرے شخصیات کے سہارے نہیں بلکہ نظریات، تنظیم اور مسلسل شعوری جدوجہد کی بنیاد پر آگے بڑھتے ہیں اور یہی وہ مستقل سوال ہے، جو بلوچستان کی وقتی سیاست کے سامنے آج بھی پوری شدت سے موجود ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اور اجتماعی اور سیاسی نہیں بلکہ کے بجائے جاتی ہے
پڑھیں:
مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
ویب ڈیسک : مستونگ میں ہونے والے قاتلانہ حملے میں سیشن جج مستونگ عبدالحکیم کاکڑ اور گن مین شہید ہو گئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری شدید زخمی ہوئے۔
حکومت بلوچستان نے مستونگ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا حکم دے دیاہے۔ معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کا کہنا ہے کہ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کی شہادت انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کے مطابق وکلاء اور ججز کو نشانہ بنانا ایک گہری سازش کا حصہ ہے،دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے مستونگ حملے میں زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سے رابطہ کرکے ان کی خیریت دریافت کی اوران کی مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیاہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ قانون کے محافظوں پر حملہ ناقابل برداشت ہے، ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا،حکومت عدلیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ہر قدم پر کھڑی ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ