لاہور میں 3روزہ ’محفوظ بسنت‘ کے انعقاد کے لیے کائٹ فلائنگ آرڈینینس 2025 کے تحت سخت قوانین کے نفاذ کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

اس حوالے سے ایک اہم اجلاس کمشنر لاہور مریم خان کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں ڈی آئی جی آپریشنز لاہور، چیف ٹریفک آفیسر، ڈپٹی کمشنر لاہور، ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ، تمام اسسٹنٹ کمشنرز اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔

اجلاس میں کمشنر لاہور مریم خان نے ہدایت کی کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن پر من و عن عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ انسانی جانوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور محفوظ بسنت پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

کمشنر لاہور کے مطابق لاہور ضلع کی حدود میں محفوظ بسنت 6، 7 اور 8 فروری 2026 کو منائی جائے گی، جبکہ پتنگ اور ڈور کی فروخت کی اجازت صرف یکم فروری سے 8 فروری 2026 تک ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ 6 فروری 2026 سے قبل ضلع لاہور میں پتنگ بازی کی قطعی اجازت نہیں ہوگی۔

یہ بھی پڑھیے لاہور میں بسنت منانے کی شرائط و ضوابط کیا ہوں گی؟ صوبائی وزیر عظمیٰ بخاری نے بتا دیا

کمشنر لاہور نے اعلان کیا کہ 3روزہ محفوظ بسنت کے دوران سیفٹی راڈز یا وائرز کے بغیر کوئی موٹر سائیکل سڑک پر نہیں آئے گی اور موٹر سائیکل سواروں کو حفاظتی اقدامات پر مکمل عملدرآمد کرنا ہوگا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پتنگ اور ڈور کی تیاری (مینوفیکچرنگ) کی اجازت صرف ضلع لاہور میں ہوگی، جبکہ دیگر اضلاع میں متعلقہ انتظامیہ کو پتنگ بازی اور اس کے کاروبار کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ تمام اسسٹنٹ کمشنرز کو فوری کارروائی کا حکم دیتے ہوئے کہا گیا کہ کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

کمشنر لاہور ڈویژن نے قریبی اضلاع کو بھی اپنے اپنے علاقوں میں پتنگ بازی کے خلاف سخت اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے نواز شریف کی خواہش پر بسنت کا تہوار لاہور میں منایا جائے گا؟

اجلاس میں بتایا گیا کہ مینوفیکچررز، ٹریڈرز اور سیلرز کی ای بز ایپ کے ذریعے آن لائن رجسٹریشن شروع کر دی گئی ہے، اور صرف رجسٹرڈ افراد کو ہی پتنگ اور ڈور کے کاروبار کی اجازت ہوگی۔ تمام رجسٹرڈ مینوفیکچررز، ٹریڈرز اور سیلرز اپنے رجسٹریشن سرٹیفکیٹس نمایاں جگہ پر آویزاں کرنے کے پابند ہوں گے۔

کمشنر لاہور کے مطابق اجازت شدہ پتنگ کے سائز اور ڈور کی اقسام کی تیاری اور تجارت 8 فروری 2026 تک ہی ممکن ہوگی، جبکہ آرڈینینس اور نوٹیفکیشن کے مطابق طے شدہ کائٹ فلائنگ میٹیریل کے علاوہ کسی اور مواد کے استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ محفوظ بسنت ایک ثقافتی تہوار ہے، جس کے دوران تمام محکمے ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے۔ کائٹ فلائنگ آرڈینینس 2025 کی خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

کمشنر لاہور مریم خان نے شہریوں سے بھی اپیل کی کہ وہ محفوظ بسنت کے انعقاد کے لیے اپنا ذمہ دارانہ کردار ادا کریں تاکہ یہ تہوار خوشی اور سلامتی کے ساتھ منایا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

لاہور محفوظ بسنت.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: لاہور محفوظ بسنت کمشنر لاہور محفوظ بسنت لاہور میں کی اجازت جائے گی اور ڈور

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔

امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔

تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ