50ویں چیف آف آرمی اسٹاف پولو اور ٹینٹ پیگنگ چیمپئن شپ اختتام پذیر
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
لاہور کے جناح پولـو فیلڈز میں چیف آف آرمی اسٹاف کی 50ویں پولو اور ٹینٹ پیگنگ چیمپئن شپ 2025 کی اختتامی تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب میں مہمانِ خصوصی چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورس، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر تھے۔
اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ، چیف سیکریٹری پنجاب، اعلیٰ فوجی اور سول حکام کے علاوہ کھیلوں کے شائقین کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی آمد پر کور کمانڈر لاہور اور چیئرمین پاکستان پولـو فیڈریشن نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔
یہ چیمپئن شپ پاک فوج کی کھیلوں سے وابستگی، نظم و ضبط اور اعلیٰ روایات کی عکاس رہی۔ اس سال مجموعی طور پر آٹھ ٹیموں نے حصہ لیا اور سخت مقابلوں کے ذریعے کھیل کا جوش بڑھایا۔
فائنل میچ میں پشاور کور نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹرافی اپنے نام کی، جبکہ گوجرانوالہ کور کی ٹیم رنرز اپ رہی۔
اختتامی تقریب میں مہمانِ خصوصی نے فاتح ٹیم اور شریک کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کیے اور ان کی پیشہ ورانہ مہارت اور کھیلوں کے جذبے کی تعریف کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: چیف ا ف
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔