کراچی؛ مین ہول میں گرنے والے بچے کی ہلاکت بھی انتظامیہ کو حرکت میں نہ لاسکی
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
کراچی کے علاقے مہران ٹاون میں کُھلے مین ہول میں گرکر ایک اور بچے کی ہلاکت بھی انتظامیہ کو حرکت میں نہ لاسکی۔
سیاسی و انتظامی عہدیداروں نے ایک دوسرے پر الزام تراشی کی بھرمار کررکھی ہے لیکن کسی نے بھی گٹر کا ڈھکن نہ لگایا۔ گٹر کے ڈھکن لے کر آنے والی سماجی تنظیم کو بھی کام نہ کرنے دیا۔
رواں برس کھلے مین ہولز اور نالوں میں گرکر 27 افراد اپنی جان گنواچکے ہیں۔ سانحہ مہران ٹاون کے بعد متوفی بچے کی گلی میں سوگ کا ماحول ہے۔
مہران ٹاون کے سماجی کارکن محمد وحید نے بتایا کہ کورنگی کا علاقہ مہران ٹاون صنعتی ایریا ہے۔ یہاں بڑی تعداد میں فیکڑیاں ہیں۔اس علاقہ میں مزدور طبقہ رہتا یے۔ یہ علاقہ شاہ فیصل ٹاون کی حدود میں آتا یے۔یہاں گلیاں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔
محمد وحید نے بتایا کہ علاقہ میں بیشتر مین ہولوں پر ڈھکن نہیں ہیں۔ گذشتہ روز کورنگی صنعتی ایریا کے علاقے مہران ٹاؤن سیکٹر 6 جی میں انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت اور لاپروائی کے نتیجے میں 8 سالہ دلبر علی کھلے مین ہول میں گر کر زندگی کی بازی ہار گیا تھا۔
واقعے کی اطلاع پرکافی جدوجہد کے بعد کمسن لڑکے کو اس کے چاچا نے کھلے مین ہول سے باہر نکالا تاہم وہ اس وقت تک زندگی کی بازی ہار چکا تھا۔ واقعے کے بعد علاقہ میں کہرام مچ گیا اور متوفی بچے کے اہلخانہ اور مکینوں کی بڑی تعداد جائے وقوعہ پر جمع ہوگئی اور اپنے شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔
اس واقعہ کے بعد ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد، ٹاون چیئرمین شاہ فیصل گوہر خٹک، جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق، پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی سمیت سماجی تنظیم فکس اٹ کے عہدیدار آئے۔ سیاسی بلدیاتی نمائندوں نے بیانات دیے اور الزام تراشی کی لیکن کسی ادارے نے اپنی زمہ داری قبول نہیں کی سب ایک دوسرے پر ملبہ ڈالتے رہے۔ا
اس حادثہ کے بعد جائے وقوعہ سمیت کسی کھلے مین ہول پر ڈھکن نہیں نہیں لگائے گئے۔سب سیاست کرکے چلے گئے۔متاثرہ خاندان کی کسی نے داد رسی نہیں کی ۔ انہوں نے کہا کہ کھلے مین ہول اور نالوں کو بند کرنے کے لیے حکومتی سطح پر کسی ایک ادارے کو زمہ داری دی جائے۔
کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے والے بچے کے والد اظہر علی نے بتایا کہ کھلے مین ہول کی وجہ سے ان کا اکلوتا لخت جگر چلاگیا ہے۔اس سانحہ کے بعد کھلے مین ہول پر ڈھکن نہیں لگایا جس میں گرکر میرابچہ موت کے منہ میں چلاگیا۔
انہوں نے کہا کہ میری حکومت سے اپیل ہے کہ خدارا وہ ہوش کے ناخن لے، کراچی میں جو مین ہول یا نالے کھلے ہیں ان پر ڈھکن لگانے کے ساتھ اس کو بند کیا جائے تاکہ اب کوئی بچہ حادثہ کا شکار نہ ہو۔آج میرا بچہ گیا ہے اب کسی کا بچہ جانا نہیں چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: افغان سرحد سے دہشتگردی کا خطرہ کے پی میں سرچ آپریشن کھلے مین ہول مین ہول میں مہران ٹاون ڈھکن نہ پر ڈھکن کے بعد
پڑھیں:
ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟
سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔
یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔
تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔
مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں
انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔
ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔
تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔
ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔
تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید
ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر